وحدت کا راز
5 اپریل 1998ء کو میں رشی کیش میں تھا۔ اس وقت یہاں ایک پروگرام کے تحت مختلف ملکوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں چند تعلیم یافتہ ہندوؤں سے ایک مفید گفتگو ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ انسانی سماج میں باہمی رواداری (tolerance) اور احترام (respect) کا ماحول کس طرح پیدا کیا جائے۔ انھوں نے اس کا حل یہ بتایا کہ لوگوں کے اندر وحدت حقیقت (oneness of reality) کا عقیدہ بٹھایا جائے۔ ان لوگوں کاکہنا تھاکہ سچائی ایک ہے مگر اس کے راستے مختلف ہیں۔ آدمی جس مذہبی طریقہ پر بھی چلے، آخرکار وہ خدا تک پہنچ جائے گا۔
یہ ایک قدیم نظریہ ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں سب کی سب تمثیل پر مبنی ہیں۔ مثلاً مذکورہ مجلس میں ایک ہندو اسکالر نے کہا کہ اگر آپ ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک ہی راستہ دکھائی دے گا جو پہاڑی کے اوپر جا رہا ہوگا۔ لیکن اگر آپ پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جائیں اور اس کے چاروں طرف دیکھیںتو آپ کو نظر آئے گا کہ پہاڑ کے ہر طرف راستے ہیں اور وہ سب الگ الگ ہونے کے باوجود ایک ہی بلندی پر پہنچ رہے ہیں۔
یہ استدلال صرف ایک تمثیل پر مبنی ہے اور تمثیلی استدلال خالص علمی اعتبار سے کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اس کو نہایت آسانی کے ساتھ دوسری تمثیل سے رد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً بمبئی یا دہلی جیسے ریلوے اسٹیشن پر کوئی شخص کھڑا ہو تو اس کو سینکڑوں گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں گی۔ مگر یہ سمجھنا یقینی طور پر درست نہ ہو گا کہ ان میں سے ہر گاڑی ایک ہی آخری اسٹیشن کی طرف جا رہی ہے۔مذکورہ تمثیل میں تمام راستے اگر ایک ہی منزل کی طرف جا رہے تھے تو اس قسم کی دوسری تمثیل میں ہر راستہ الگ الگ منزل کی طرف چلا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی سماج میں احترام اور رواداری کا ماحول پیدا کرنے کے مسئلہ سے مذکورہ نظریہ کا کوئی تعلق نہیں، حتیٰ کہ اگر تمام لوگ اس عقیدہ کو مان لیں تب بھی وہ مطلوب سماجی مقصد کے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ایک مذہب کو ماننے والے گروہ کے درمیان باہمی طور پر ہر زمانے میں لڑائیاں جاری رہی ہیں اور آج بھی جاری ہیں۔ پھر جو نظریۂ اتحاد ایک مذہب کے درمیان کارآمد نہ ہو سکا، وہ مختلف مذاہب کے درمیان کس طرح کارآمد بن جائےگا۔
’’وحدتِ دین سماجی اتحاد پیدا کرتا ہے‘‘—یہ نظریہ بظاہر یہ فرض کرتا ہے کہ ’وحدت دین‘ کے اصول کو ابھی تک عمل میں نہیں لایا گیا ہے، اب اس کا عملی تجربہ کرنا ہے۔ حالانکہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نہایت اعلیٰ سطح پر اس نظریہ کا تجربہ کیا گیا مگر وہ سراسر ناکام ثابت ہوا۔ شہنشاہ اکبر کی حکومتی طاقت، ڈاکٹر بھگوان داس کا انسائیکلو پیڈیائی علم اور مہاتما گاندھی کی مقبول لیڈر شپ، اس قسم کے بہت سے بڑے بڑے تجربے ناکامی کی اس فہرست میں شامل ہیں۔
اس سے ظاہرہوتا ہے کہ آج ہمارے سامنے جو اصل مسئلہ ہے وہ وحدت دین کے نظریہ کے تجربہ کا نہیں ہے بلکہ اس کے لمبے تجربہ کے باوجود مطلوب نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو چیز مفقود ہے وہ نظریہ کی موجودگی نہیں ہے بلکہ نظریہ کے موجود ہوتے ہوئے نتیجہ کا حاصل نہ ہونا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں اس نظریہ کے سوا ایک اور حل تلاش کرنا ہے نہ کہ اسی ناکام تجربہ کو مزید دہرانا۔
اس مسئلہ کا زیادہ صحیح اور قابل عمل حل وہ ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن نے جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ تمام انسان نفس واحدہ سے پیدا کیے گئے ہیں (النساء، 4:1)۔ یعنی، تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔ اس لحاظ سے تمام انسان آپس میں بہن بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سب کے سب آپس میں بلڈ سسٹرز (خونی بہن) اور بلڈ برادرز (خونی بھائی) ہیں۔
اس تصور کے مطابق، سماج میں اتحاد و احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بنیاد وحدت انسانیت ہے۔ یعنی یہ کہ تمام لوگ اس حقیقت کو مانیں کہ ظاہری اختلاف کے باوجود سب کے سب اصلاً ایک انسانی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے اعتبارات سے بظاہر مختلف ہونے کے باوجود وہ انسانی اعتبار سے ایک ہیں۔
انسانی سماج میں اتحاد کا راز وحدت ادیان کے عقیدہ میں نہیں ہے بلکہ وحدت انسان کے عقیدہ میں ہے۔ یعنی مذہب تو جدا جدا ہیں مگر انسان سب کے سب یکساں سماجی درجہ رکھتے ہیں۔ سماج میں اتحاد و احترام پیدا کرنے کے لیے یہی واحد فارمولا ہے جو قابل عمل ہے اور اسی کے ساتھ فطرت کے مطابق بھی۔
