کنور زن کا مسئلہ

کنورزن کے معاملے میں ایک نقطۂ نظر وہ ہے جس کو معروف طور پر مذہبی نقطۂ نظر سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ایک مذہبی گروہ کے آدمی کا اپنے مذہب کو بدل کر دوسرے مذہبی گروہ میں شامل ہو جانا۔ مذہبی اصطلاح میں تبدیلیٔ مذہب (proslytism) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ کنورزن کا ایک بہت محدود تصور ہے۔ اس کے علاوہ کنورزن کا ایک اور وسیع مفہوم بھی ہے۔ اس کو ایک لفظ میں کنورزن کا سائنٹفک نقطۂ نظر کہا جا سکتا ہے۔

کنورزن کے بارے میں جو مذہبی نقطۂ نظر ہے اس کا تعلق صرف مذہبی روایت سے ہے۔ اس اعتبار سے وہ نسبتاً ایک محدود نقطۂ نظر ہے۔ سائنسی نقطۂ نظر کا دائرہ، اس کے مقابلے میں ، بہت زیادہ وسیع ہے۔ وہ خود فطرت کے ابدی اصولوں پر مبنی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ مذہبی معنوں میں کنورزن کسی انسان کے لیے اس کے اپنے چوائس کا معاملہ ہے۔ مگر سائنٹفک معنوں میں کنور زن انسانی چوائس کا معاملہ نہیں۔ وہ زندگی کا ایک اٹل قانون ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح فطرت کے دوسرے قوانین اٹل قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سائنٹفک کنورزن کے اصولوں کو ہم اسی طرح ماننے پر مجبور ہیں جس طرح ہم شام کے بعد صبح کو مانتے ہیں یا ایک موسم کے بعد دوسرے موسم کے آنے پر یقین رکھتے ہیں۔

میں نے خدا کے فضل سے اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ میں نے سائنس کو بھی پڑھا ہے۔ اس دوطرفہ مطالعہ کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کنورزن کے معاملے میں سائنس یا فطرت کا جو اصول ہے عین وہی خود اسلام کا اصول بھی ہے۔ اس معاملے میں دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق یا اختلاف نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion