لاقانونیت کا مسئلہ
مارچ 1988 کی 12 تاریخ ہے۔ اور صبح8 بجے کا وقت۔ میرے دفتر (نئی دہلی) سے متصل پارک میں رنگ برنگ کے پھول نہایت حسین منظر پیش کر رہے ہیں۔ اتنے میں کالونی کی ایک خوش پوش عورت پارک میں داخل ہوتی ہے۔ وہ پھول توڑنا چاہتی ہے۔ مالی اس کو منع کرتا ہے۔ مگر وہ باز نہیں آتی۔ وہ اپنے کچھ پسندیدہ پھولوں کو توڑ کر ہاتھ میں لے لیتی ہے۔ اور باہر سڑک پر آ کر فاتحانہ انداز میں کہتی ہے! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے باپ کا پارک ہے۔ ہم پھول توڑیں گے، دیکھیں کون ہم کو روکتا ہے پھول توڑنے سے۔
یہ چھوٹا سا واقعہ اس ہندستان کی تصویر پیش کرتا ہے جس کو آزاد ہندستان کہا جاتا ہے۔ آزاد ہندستان دراصل لاقانونی ہندستان کا دوسرا نام ہے۔ آج ملک کے جس شعبہ کو دیکھئے، ہر جگہ لاقانونیت ہے۔ سرکاری دفتروں سے لے کر سڑک کی ٹریفک تک تعلیمی اداروں سے لے کر سیاسی پارٹیوں تک، ملک کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں قانون کا احترام پایا جاتا ہو۔ اپنے ذاتی مفاد کے سوا اور کوئی چیز نہیں جس کو لوگ جانتے ہوں۔ اپنی ذاتی انا کے سوا اور کوئی چیز نہیں جس کا لحاظ کرنے کی ضرورت انہیں محسوس ہوتی ہو۔ قانون کی پابندی کرنے والے شہری (law abiding citizen) نام کی کوئی چیز جدید ہندستان میں نہیں پائی جاتی۔
اس تاثر کے تحت آج جب میں نے دہلی کے اخبارات پڑھے تو مجھے محسوس ہواکہ اس لاقانونیت کا ڈانڈا دراصل ڈانڈی مارچ سے ملتا ہے۔ آج (12 مارچ 1988) کے اخبارات نے ڈانڈی مارچ کے واقعہ کی تفصیلات نمایاں طور پر شائع کی ہیں۔ ڈانڈی مارچ کیا تھا۔ وہ گویا قانون شکنی کی طرف آکا ہر قوم کا مارچ تھا۔ قانون شکنی کو گلوریفائی کرنے کے ہم معنی تھا۔ اور جب کسی قوم میں ایک بار قانون شکنی کی روایت قائم کر دی جائے تو پھر وہ کسی حد پر نہیں رکتی۔
ڈانڈی مارچ ہندستان کی تاریخ آزادی کا مشہور واقعہ ہے۔ یہیں سے مہاتما گاندھی کی سول نافرمانی civil disobedience کا آغاز ہوتا ہے۔ اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں برٹش راج کے خلاف عوامی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی۔ لوگ بے خوف ہو کر انگریز حکمرانوں کو ہر جگہ چیلنج کرنے لگے۔ انگریزی قانون کو توڑنا قومی ہیرو بننے کے ہم معنی ہوگیا۔ ایک سال کے اندر60 ہزار آدمی خوشی خوشی جیل چلے گئے، وغیرہ۔
مہاتما گاندھی12مارچ1930 کو سابرمتی آشرم سے پیدل روانہ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ79 آدمی تھے۔ انھوں نے 241 میل کا سفر 24 دن میں طے کیا اور5 اپریل 1930 کو ساحل سمندر پر پہنچے۔ انھوں نے وہاں ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر نمک حاصل کرکے قانون شکنی کے عمل کا آغاز کیا۔ اس پورے راستہ میں گاندھی جی کو اطراف کی بستیوں سے اتنا زبردست استقبال ملا جو کسی بادشاہ کے لیے بھی قابل رشک ہو سکتا تھا۔ مہاتما گاندھی ایک ہیرو کی مانند سابرمتی سے ڈانڈی پہنچے۔ وہاں انھوں نے 5 اپریل1930 کو اپنے قلم سے لکھا کہ میں طاقت کے خلاف حق کی اس جنگ کے لیے عالمی ہمدردی چاہتا ہوں:
I want world sympathy in this battle of Right against Might.
12 مارچ 1988ء کے دہلی کے اخبارات میں ڈانڈی مارچ کے بارے میں اس قسم کی مختلف تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔ ان کو پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ60 برس پہلے مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے تھے کہ ملک کا اصل مسئلہ ملک سے برٹش راج کو ختم کرنا ہے۔ مگر اس واقعہ کے60 برس بعد دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اصل مسئلہ’’برٹش راج‘‘ کو ختم کرنا نہیں تھا بلکہ’’نفسانی راج‘‘ کو ختم کرنا تھا۔ برٹش راج ختم ہوگیا مگر نفسانی راج مزید شدت کے ساتھ باقی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پورا ملک پہلے سے بھی زیادہ بے امنی اور بدعنوانی کا نمونہ بنا ہواہے۔ موجودہ ہندستان میں کسی شریف اور بااصول آدمی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس کے لیے موجودہ ہندستان میں زیادہ رہنا ایسا ہی ہے جیسا کانٹوں کے فرش پر زندہ رہنا۔
مہاتما گاندھی کے ساتھ ڈانڈی مارچ (1930) کے قافلہ میں جو لوگ شریک تھے، ان میں سے کچھ افراد بوقت تحریر زندہ ہیں۔ ان میں سے ایک مسٹر کپل پرساد دیو ہیں جن کی عمر اب 88 سال ہو چکی ہے۔ گاندھی نگر میں انھوں نے ہندستان ٹائمس (12 مارچ1988) کے نامہ نگار مسٹر اشوک ویاس سے ماضی کی یادوں کو بتاتے ہوئے کہاکہ ہمارا قافلہ جب چلتے ہوئے سورت پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے ڈانڈی مارچ والوں کے لیے ایک پرتکلف لنچ کا انتظام کیا۔ لوگ شوق سے اس دعوت میں شریک ہوئے اور خوب سیر ہو کر کھایا پیا۔ جب گاندھی جی کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ اس سفر کے دوران ہر شام کو وہ مجلس کرتے تھے۔ اس روز شام کی مجلس میں انھوں نے کہا:
I think I have committed a Himalayan blunder in selecting the Satyagrahis for this Kooch. When majority of the countrymen could not get a bajra roti and chatni or onion could you think of taking such lavish lunch.
میرا خیال ہے کہ میں نے ستیہ گرھیوں کو اس کوچ کے لیے منتخب کرکے ہمالیہ پہاڑ کے برابر غلطی کی ہے۔ ملک کے باشندوں کی اکثریت کو کھانے کے لیے باجرہ کی ایک روٹی اور چٹنی یا پیاز بھی نہیں ملتی۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں نے کیوں یہ سوچا کہ آپ ایسا پرتکلف کھانا کھائیں۔
مہاتما گاندھی اگر آج زندہ ہوتے تو یقینا وہ محسوس کرتے کہ سورت کی پرتکلف دعوت کو قبول کرنے سے زیادہ بڑی غلطی خود ڈانڈی مارچ کا فیصلہ تھا جو قانون شکنی یا سول نافرمانی (civil disobedience) کے طور پر زیر عمل لایا گیا تھا۔ جدید ہندستان میں سب سے پہلی ہمالیائی غلطی یہ تھی کہ انگریزوں کے خلاف ’’نافرمانی‘‘ کے طریقہ پر عمل کرکے قانون شکنی کی روایت قائم کی گئی۔ کسی ملک کے اکابر جب ایک بار قانون کے احترام کی روایت کو توڑ دیں اور قانون شکنی کو مقدس قومی عمل کی حیثیت سے رائج کریں تو اس کے بعد ملک کو لاقانونیت (lawlessness) کی طرف جانے سے روکا نہیں جا سکتا۔ اور آزادی کے بعد کا ہندوستان، جہاں لاقانونیت ہی کا نام قانون ہے، بلاشبہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جس کا آغاز60سال پہلے تمام اکابر قوم کو متفقہ منظوری سے کیا گیا تھا۔
مہاتما گاندھی نے1947 سے پہلے برٹش راج کو ختم کرنے کے لیے تحریک چلائی تو سارا ہندستان ان کے ساتھ ہوگیا۔ وہ ملک کے ہیرو بن گئے۔ مگر اسی مہاتما گاندھی نے1947 کے بعد نفسانی راج کو ختم کرنے کی مہم شروع کی تو انہیں آزاد ہندستان کے عین قلب میں گولی مار کر ختم کر دیا گیا— احتساب غیر کے عنوان پر لیڈر بننا کتنا آسان ہے اور احتساب خویش کے عنوان پر لیڈر بننا کتنا مشکل۔
