فطرت کا نظام

قرآن کی سورۃ البلد میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوا ہے کہ: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ (90:4)۔ یعنی، ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ آدم کے بارے میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا تھاکہ دنیا میں تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو گے: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ (2:36)۔

قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف (suffering) موجودہ دنیا کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ خود خالق فطرت کا مقرر کیا ہوا نظام ہے۔ اس لیے اس کو ختم کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ یہ انسانیت کے نام قرآن کا ایک عظیم فکری تحفہ ہے۔ انسان اگر اس راز کو نہ جانے تو وہ غیر حقیقت پسند بنا رہے گا ، وہ غیر ضروری طور پر ہمیشہ یہ کوشش کرے گا کہ وہ اپنے لیے ایک بے مشقت دنیا یا خرابیوں سے پاک سماج (evil-free society) بنا سکے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہو گا۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مگر جب وہ اس حقیقت کو جان لے گا تو وہ مسائل کے ساتھ جینے کی کوشش کرے گا اور پھر وہ اسی طرح اپنی پسند کی ایک دنیا بنا لے گا جس طرح ایک درخت کانٹوں کے باوجود پھولوں اور پتیوں کے ذریعہ اپنی ایک پُرکشش دنیا بنا لیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے مسائل انسان کے لیے مصیبت نہیں۔ وہ انسان کے لیے ترقی کا زینہ ہیں۔ یہ مسائل انسان کو بیدار کرتے ہیں۔ وہ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو حرکت میں لاتے ہیں۔ وہ اس کے جمود کو توڑ کر اس کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کی ضمانت ہیں۔

مسائل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ وہ ایک مفید حصہ ہیں نہ کہ کوئی مضر حصہ۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں وہ بے فائدہ چیزوں میں اپنی طاقت کو ضائع نہیں کریں گے۔ وہ زندگی کی اعلیٰ تعمیر میں یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion