کنورزن— ایک آفاقی اصول

اس معاملے کا ایک پہلو اور ہے جس کی طرف قرآن میں بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کنورزن کا معاملہ محدود طور پر صرف مذہب کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک آفاقی اصول ہے۔ موجودہ کائنات میں تمام ترقیاں اسی کنورزن کے طریقہ پر ظہور میں آئی ہیں۔ کائنات اپنی ابتدا میں ایک بند مادہ کی صورت میں تھی ، پھر اس میں داخلی تغیر ہوا۔ یہ بند مادہ کھل کر پھیلنا شروع ہوا یہاں تک کہ موجودہ وسیع کائنات بن گئی (الانبیاء، 21:30)۔ زمین سوکھی پڑی ہوئی ہوتی ہے پھر بارش کے ذریعہ اس میں تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ چٹیل میدان ہری بھری فصلوں اور شاداب درختوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے (الحج، 22:5)۔

اسی طرح کچھ بظاہر غیر ذی روح اجزاء ایک مادہ کے بطن میں مخصوص تغیرات کے مراحل سے گزرتے ہیں یہاں تک کہ وہ ایک مکمل قسم کے ذی روح وجود کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ چلتے پھرتے انسان اور چلتے پھرتے حیوان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے (الانعام، 6:96)۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گائے کے پیٹ میں گھاس اور دانا داخل ہوتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک قدرتی نظام کے تحت کچھ تغیراتی مراحل سے گزرتا ہے یہاں تک کہ وہ دودھ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو انسان کے لیے ایک نہایت قیمتی غذا ہے۔ (النحل، 16:66) وغیرہ وغیرہ۔

اس طرح کے قدرتی مظاہر کی مثال دے کر قرآن میں یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ یہ دنیا کنورزن کے عالمی اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر قسم کی ترقیاں ہمیشہ تغیراتی عمل (Process) سے گزر کر وقوع میں آتی ہیں۔ ایک چیز اپنی ابتدائی حالت میں کچھ ہوتی ہے، اور پھر اس پر تغیر وتبدل کا عمل واقع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ چیز ایک نئی بہتر چیز بن جاتی ہے…دو قسم کے بادلوں کے ٹکراؤ سے نائٹروجن کا پیدا ہونا، دو قسم کی گیسوں کے ملنے سے پانی کا وجود میں آنا، خام لوہے کا متغیر ہو کر اسٹیل بن جانا۔ مختلف قسم کے کیمیکل کی آمیزش سے نئی نئی مفید دھاتوں کا بننا، وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب وسیع تر معنوں میں کنورزن کی مثالیں ہیں۔ یہی کنورزن انسانی افکار کی دنیا میں بھی کار فرما ہے۔ اس دنیامیں مسلسل طور پر افکار کے درمیان ٹکراؤ جاری ہے۔ اسی ٹکراؤ کے عمل سے ایک فکر تبدیل ہو کر دوسرے زیادہ بہتر فکر کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں سینکڑوں سال تک شمسی نظام کے بارے میں زمین مرکزی نظریہ (geo-centric theory) کا غلبہ تھا۔ پھر فکری تصادم کے نتیجہ میں اس میں تغیر شروع ہوا۔ یہاں تک کہ زمین مرکزی نظریہ کو علمی دنیا میں رد کر دیا گیا اور اس کی جگہ آفتاب مرکزی نظریہ (helio-centric theory) کو زیادہ صحیح قرار دے کر اس کو قبول کر لیا گیا، وغیرہ۔

افکار کی دنیا میں اسی کنورزن کی ایک مثال وہ ہے جس کو مذہبی کنورزن کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے مذہبی کنورزن فطرت کی وسیع تر اسکیم کا صرف ایک جزء ہے۔ یہ جزء بھی اتنا ہی مطلوب اور ضروری ہے جتنا کہ اس کا کُل۔

حقیقت یہ ہے کہ کنورزن فطرت کا قائم کردہ ایک عالم گیر قانون ہے۔ مادی دنیا کی تمام ترقیاں اسی کنورزن کے اصول پر ہو رہی ہیں۔ زندہ اشیا (انسان اور حیوان) کا جسمانی ارتقاء تمام تر اسی کنورزن کے اصول پر ہوتا ہے۔ اسی طرح افکار کی دنیا میں ہزاروں سال سے جو ترقیاں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب اسی کنورزن کے اصول کو اختیار کرنے کی بنا پر ہو رہی ہیں۔ یعنی ایک چیز کو حق پا کر پوری طرح اختیار کر لینا۔ اس دنیا کا کوئی بھی ترقیاتی واقعہ اس کنورزن کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے جو کہ روحانی سچائی کا دوسرا نام ہے۔ وہی مذہب کسی انسان کا مذہب بن سکتا ہے جس کو کسی آدمی نے ذاتی تلاش کے نتیجہ میں دریافت کیا ہو۔ مذہب کا نہایت گہرا تعلق یقین سے ہے اور یقین کا تعلق دریافت (discovery) سے۔ دریافت کے بغیر یقین نہیں، اور یقین کے بغیر مذہب نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر سچے مذہب کے ماحول میں پیدا ہو تب بھی وہ صرف آبائی تعلق کی بنا پر اس مذہب کو نہیں پا سکتا۔ مذہب کو بطور ایک یقینی صداقت کے پانا اس کے لیے صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ وہ خود اپنے مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اس کو پائے، وہ ا یک معلوم چیز کو دوبارہ دریافت (re-discover) کرے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion