دانشوران قوم کا ردعمل

سپریم کورٹ آف انڈیا کی ڈویژن بنچ کا فیصلہ (10 مئی 1995) اخباروں میں چھپا تو برادران وطن اور دانشوران قوم کا ردعمل کثرت سے سامنے آیا۔ ایک طبقہ نے اس کا خیرمقدم کیا اور اس کو اس طرح لیا گیا گویا کہ یہ ملک کے موجودہ سماجی مسائل کا کوئی حتمی حل ہے۔ تاہم ان میں قابل لحاظ تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جنھوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ اور کسی ایک یا دوسری وجہ سے اس کو رد کر دیا۔ اس دوسرے طبقہ کے چند حوالے حسب ذیل ہیں۔

  1. Politics of Uniform Civil Code by Partha S. Ghosh

The Hindustan Times, New Delhi, May 22, 1995

  1. Living with Religion by Kuldip Nayyar

   The Statesman, New Delhi, May 31, 1995

  1. Uniform Civil Code: Judiciary Oversteps its Brief by H.M. Seervai

The Times of India, New Delhi, July 5, 1995

  1. Personal Laws: Uniformity no Essential by Balraj Puri

Indian Express, New Delhi, July 6, 1995

  1. Civil Code: The Constitutional Perspective by K.C Markandan

The Hindustan Times, New Delhi, June 19, 1995

نمونہ کے طور پر مسٹر بلراج پوری (پیدائش 1928) کے مذکورہ مضمون کے کچھ حصے یہاں اصل انگریزی میں نقل کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کامن سول کوڈ کے تصور کو پوری طرح رد کر دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ:

سپریم کورٹ کے معزز ججوں نے قومی اتحاد کا تصور پیش کیا ہے اور اس کی حمایت میں انھوں نے جو دلائل دیے ہیں، اس پر میرا اعتراض بہت بنیادی ہے۔ میرے نزدیک جج صاحبان، قومی تعمیر کے عمل میں برعکس طور پر اثرانداز ہوئے ہیں، ہندوستانی قوم کے مشترک کردار پر اور مسلمانوں کے درمیان نیز مسلمانوں اور دوسرے فرقوں، خاص کر ہندوؤں کے ساتھ ڈائیلاگ پر جو کہ اس کے پرسنل لا کی اصلاح کے سوال پر جاری تھا۔ یہ کہہ کر کہ مسلم پرسنل لا کی اصلاح اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس کو یکساں قانون کا حصہ نہ بنایا جائے، جج صاحبان نے مسلم خواتین کے معاملے کو مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کے تابع کر دیا ہے۔ اور اس طرح انھوں نے ایک اچھے مقصد کے ساتھ سخت ناانصافی کی ہے۔

یکسانیت اور اصلاح کے درمیان قطعی طور پر کوئی بھی منطقی ربط نہیں۔ اول الذکر کے خلاف کیس اتنا ہی ناقابل تردید ہے جتنا کہ وہ مؤخر الذکر کے معاملے میں ہے۔ یکساں سول کوڈ، قومی اتحاد اور استحکام کے فروغ کے لیے کوئی قطعی چیز نہیں، جیسا کہ جج صاحبان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ دستور ہند کی اسٹیٹ لسٹ میں 66 اندراجات ہیں اور کانکرنٹ لسٹ میں 47 اندراجات ہیں ، جن کے معاملے میں ریاستوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الگ الگ قوانین بنا سکتی ہیں ، اور ان میں یکسانیت ضروری نہیں ہے۔ اگر ریاستوں کی جغرافی اور ثقافتی عدم یکسانیت کی بنیاد پر بنائے جانے والے غیر یکساں قوانین ملک کے اتحاد کے لیے خطرہ نہیں ہیں تو غیر جغرافی نوعیت کے مذہبی گروہوں میں عدم یکسانیت سے وہ کیوں خطرہ بن جائیں گے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوئی فرقہ مذہب کی بنیاد پر اپنے لیے علیحدہ وجود کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ مگر کیا ہم نے زبان کی بنیاد پر علیحدہ وجود کا اقرار نہیں کیا ہے اور زبان کی بنیاد پر ازسر نو ملک کی تنظیم نہیں کی ہے۔ کیا منڈل اصول کے تحت ذات کی بنیاد پر تشخص کو سیاسی جواز نہیں دیا گیا ہے۔ پھر معزز جج کیوں استثنائی طور پر صرف مذہبی گروہ کو علیحدہ تشخص کا حق دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر منطقی روش ہے ، اور سماجی اور سیاسی اعتبار سے مسلّمہ حقائق کے خلاف ہے۔ کیا یہ تشخص محض ایک جج کے اعلان سے ختم ہو جائے گا۔ (انڈین ایکسپریس 6 جولائی 1995)

There is absolutely no logical connection between uniformity and reform. The case against the former is as unassailable as it is for the latter. Nor is uniform Law imperative, as the judges argue, for the promotion of national unity and solidarity. There are a number of 66 entries in the State List and 47 in the Concurrent List of the Constitution on which States are empowered to make Laws without any obligation to conform to uniformity. If diversity of Laws, based on geographical and cultural diversities of the States, has not threatened the unity of the country, would it be threatened only if the diversities are of non-territorial form as are religious communities?

Justice Kuldip Singh has proclaimed that no community could claim to remain a separate entity on the basis of religion. Have not we conceded separate entities based on languages and reorganised the country on a linguistic basis? Have not caste-based identities been recognised in the Mandal principal and all identities, cultural, tribal, caste and religious acquired political legitimacy? Why does the honourable judge single out the claim of a religious community for a distinct identity? It defies logic and socially and politically the accepted reality. Can this identity disappear by a mere pronouncement of a judge?

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion