مسلمانوں سے خطاب
آخر میں مسلمانوں سے میں گزارش کروں گا کہ وہ سپریم کورٹ کے موجودہ فیصلہ (1995) کے معاملے میں ماضی کی اس غلطی کو ہر گز نہ دہرائیں، جو سپریم کورٹ کے سابق فیصلہ(1985) کے معاملے میں ان سے سرزد ہوئی تھی۔ دس سال پہلے جب شاہ بانو کیس پر عدالت عالیہ کا فیصلہ سامنے آیا تو مسلمانوں نے سارے ملک میں احتجاج اور مظاہرہ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کا براہ راست فائدہ ملک کے انتہا پسند ہندو عناصر کو پہنچا۔
اب دوبارہ عناصر انتظار کر رہے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہو کر سڑکوں پر آ جائیں، تاکہ وہ مسلم خطرہ کا ہوا کھڑا کرکے ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا سکیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی موجودہ حالت میں مسلمانوں کے لیے کوئی خطر ہ نہیں۔ البتہ اگر مسلمانوں نے دوبارہ مظاہراتی طریقے اختیار کیے تو یقینی طور پر وہ ان کے لیے خطرہ بن جائے گا۔
یہ دنیا مقابلہ اور مسابقت کی جگہ ہے۔ یہاں ہر ایک اس انتظار میں رہتا ہے کہ وہ دوسرے کی کمزوری سے فائدہ اٹھائے۔ فریق ثانی کو یہ موقع ہمیشہ اس وقت ملتا ہے جب کہ ناخوش گوار صورت حال پیش آنے پر آپ بھڑک اٹھیں اور عاجلانہ اقدام کر بیٹھیں۔ اسی لیے قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ— تم صبر کرو، جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی نہ کرو (46:35)۔ صبر کا طریقہ فریق ثانی سے یہ موقع چھین لیتا ہے کہ وہ آپ کی کمزوریوں کا استحصال کر سکے۔ جب کہ بے صبری کا طریقہ آپ سے ایسی غلطیاں کراتا ہے کہ آپ نہایت آسانی سے فریق ثانی کے سازشی منصوبوں کا شکار ہو جائیں۔
کسی فریق کے خلاف سازش اگرچہ دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ مگر عملاً سازش کا شکار ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ خود فریق کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سمجھنے میں زیر سازش گروہ کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔
