اسلام کا رول

بہتر دنیا کی تعمیر میں اسلام کا ایک مستقل رول ہے۔ یہ رول اسلام کے ابتدائی زمانے سے لے کر بعد کے زمانوں تک جاری رہا ہے اور مسلسل جاری رہیگا۔ یہاں مختصر طور پر اس کے چند پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

1۔  جب اسلام کا ظہور ہوا تو قدیم عرب میں قبائلی نظام تھا۔ ان کا کلچر انتقام کے اصول پر قائم تھا۔ ان کے یہاں جب اس قسم کا کوئی ایک واقعہ پیش آتا تو فریق ثانی کے لیے ضروری ہو جاتا کہ وہ اس کا انتقام  لے۔ اس کے بعد انتقام کا انتقام لینے کی صورت میں یہ تباہ کن سلسلہ برابر جاری رہتا۔ یہ صورت حال قدیم عربوں کی ترقی میں مستقل رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ اسلام نے انتقام کلچر کی جگہ معافی کلچر کو رواج دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے لیے ہر قسم کی ترقی کا دروازہ کھل گیا۔

2۔ موجودہ زمانے میں بھی اس قسم کی کئی چیزیں ہیں جہاں اسلام اپنا مثبت رول ادا کر سکتا ہے۔ مثلاً انفرادی آزادی بہت قیمتی چیز ہے مگر جدید مغربی تہذیب نے آزادی کو خیرمطلق(summum bonum) قرار دے کر اس کو لامحدود حد تک وسیع کر دیا۔ اس لامحدود آزادی کے بے شمار نقصانات ہیں جن کو آج دنیا مختلف صورتوں میں بھگت رہی ہے۔

تمام اہل دانش یہ مانتے ہیں کہ آزادی بلاشبہ ایک خیرہے مگر لامحدد آزادی شر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جدید تہذیب یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آزادی کو محدود کس طرح کیاجائے اور کس کے مقابلے میں کیا جائے۔ یہاں اسلام یہ رہنمائی دیتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کے مقابلے میں محدود بنائے۔ انسان کے مقابلے میں آزادی کو محدود کرنا بظاہر ناقابل فہم ہے مگر خدا کے مقابلے میں آزادی کا تصور فوراً قابل فہم ہو جاتا ہے۔

اس نوعیت کی ایک کامیاب مثال اس سے پہلے سامنے آ چکی ہے۔ پچھلے پانچ ہزار سال سے یورپ فلسفیوں کے اس تصور سے مسحور تھا کہ انسانی عقل حقیقت کلی تک پہنچ سکتی ہے۔ مگر اس رخ پر ہزاروں سال کی کوشش کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچی۔

 اسلام نے اس معاملے میں یہ رہنمائی دی کہ عقل انسانی صرف جزئی حقیقت کا احاطہ کرسکتی ہے، وہ کلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی— وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا (17:85)۔ یعنی، اس محدودیت کی بنا پر حقیقت کلی کو عقل کے ذریعہ دریافت کرنے کی کوشش ایک بے فائدہ کوشش ہے جو کبھی کسی واقعی نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔

قرون وسطیٰ میں جب اسلامی فکر یورپ میں پھیلا تو اس نے تاریخ میں پہلی بار یہ ذہن بنایا کہ سائنسی ریسرچ کے دائرہ کو محدود رہنا چاہیے۔ اب یورپ کے اہل علم نے اشیاء کے معنوی پہلو کو اس کے مادی پہلو سے الگ کر دیا۔ وہ معنوی پہلو کو چھوڑ کر چیزوں کے مادی پہلو پر ریسرچ کرنے لگے۔ اس طرح اچانک سائنسی تحقیق بے فائدہ کوشش کے میدان سے نکل کر نتیجہ خیز عمل کے میدان میں داخل ہوگئی۔’’علم کثیر‘‘ کو چھوڑ کر’’علم قلیل‘‘ پر راضی ہونے کا یہی اصول تھا، جو جدید سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے کا سبب بنا۔

 اسی طرح جدید مغرب ایک اور سحر میں مبتلا ہے۔ یہ لامحدود آزادی کا سحر ہے۔ مگر دوبارہ فطرت کا قانون اس کے لیے ایک مستقل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ لامحدود آزادی کے تصور کے تحت کبھی کوئی بہتر سماج نہیں بنایا جا سکتا۔ یہاں دوبارہ اسلام ایک عظیم رہنمائی دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ انسان محدود آزادی پر راضی ہو جائے۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں صرف یہی ممکن ہے۔

لامحدود آزادی کے تصور نے دنیا کو انار کی کا جنگل بنا دیا ہے۔ محدود آزادی کا اصول دنیا کو امن اور سکون کا سماج بنا سکتا ہے۔ یہ دوسرا اصول اسی طرح جدید دنیا میں ایک نیا انقلاب لا سکتا ہے جس طرح پہلا اصول قدیم دنیا میں ایک عظیم انقلاب لایا تھا۔

وہ چیز جس کو زمانے کی تغیر پذیری کہا جاتا ہے، اس کے دو حصے ہیں۔ حقیقی تغیر اور اضافی تغیر۔ حقیقی تغیر یہ ہے کہ ماضی کے کسی غلط تصور کو غلط پا کر اسے چھوڑ دیا جائے۔ اس قسم کا تغیر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، اسلام کی طرف واپسی کے ہم معنی ہے۔ اور جہاں تک اضافی تغیر کا سوال ہے، وہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ حالات کے بدلنے کے ساتھ وہ خود بدل جاتا ہے۔

پہلے قسم کے تغیر کی مثال وہ توہمات ہیں جو قدیم زمانے میں انسانی سماج کے اندر رائج تھے۔ مثلاً بعض بیماریوں کو دیو تاؤں کے اثر کا نتیجہ سمجھنا۔ جدید دور نے اس عقیدہ کو باطل ثابت کیا اور تمام بیماریوں کو میڈیکل سائنس کے تابع کر دیا۔ یہ اصول پیشگی طور پر اسلام میں موجود تھا۔ اس لیے یہ تغیر خود اسلام کے اصول کو ازسر نو زندہ کرنے کے ہم معنی ہے۔ دوسرے قسم کے تغیر کی ایک مثال عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ جنسی تعلق کا جدید نظریہ ہے۔ مگر سائنسی تحقیقات اس قسم کی آزادی کو غلط ثابت کر رہی  ہیں۔ مثلاً اس طرح کے عمل کے نتیجہ میں خطرناک بیماریوں کا پیدا ہونا۔ چنانچہ عملی تجربہ کے بعد اب خود سیکولر حلقہ میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اس بنا پر یقینی ہے کہ اس معاملے میں دوبارہ اسلام کے اصول کو اختیار کر لیا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام تغیر پذیر دنیا میں ایک غیر متغیر حقیقت ہے۔ نظری تجزیہ اور عملی تجربہ دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion