جمہوری دور کا آغاز

اسلام سے پہلے ساری دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا۔ یہ سیاسی رواج ہزاروں سال سے چلا آ رہا تھا۔ اس نظام کے تحت صرف شاہی خاندان سارے اختیارات کا مالک ہوتا تھا۔ عوام کی حیثیت صرف رعایا کی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں آزاد شہریوں کی۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ سیاسی تاریخ کا کوئی بھی طالب علم اس سے ناواقف نہیں۔

 اسلام نے پہلی بار قومی زندگی میں جمہوریت کا آغاز کیا جس کو قرآنی زبان میں شورائیت کہا جاتا ہے۔ یہ جمہوری تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے:وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ (42:38)۔ یعنی، ان کے اجتماعی اور سیاسی معاملات کا فیصلہ باہمی مشورہ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔

 قدیم انسانی تاریخ میں اسلام نے پہلی بار یہ سیاسی روایت قائم کی کہ پیغمبر اسلامﷺ کی وفات کے بعد خلیفہ کا تقرر نسلی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ عوام کی رائے سے کیا گیا۔ اسلام کے دور اول میں چاروں معیاری خلفاء اسی طرح جمہوری انداز میں منتخب کیے گئے۔ اس طرح اسلام نے تاریخ میں پہلی بار نسلی بادشاہت کے بجائے عوامی جمہوریت کا اصول سیاست کی دنیا میں قائم کیا۔

بعد کی تاریخ میں اگرچہ یہ جمہوری اصول اپنی معیاری صورت میں رائج نہ رہ سکا، تاہم اسلامی انقلاب کے اثر سے یہ فضا ہمیشہ قائم رہی کہ کسی سلطان کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ قدیم طرز کا مطلق العنان بادشاہ بن جائے۔ بنوامیہ کے دور میں سلیمان بن عبدالملک (99-54ھ) نے اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت شاہی خاندان کے ایک فرد عمر بن عبدالعزیز (101-61ھ) کو خلیفہ نامزد کیا۔ جب عمر بن عبدالعزیز کو تقرر نامہ ملا تو انھوں نے دمشق کی وسیع مسجد میں لوگوں کو جمع کیا اور یہ اعلان کیا کہ اس شاہی تقررنامہ کو میں تمہاری طرف واپس کرتا ہوں۔ اب تم لوگوں کو اختیار ہے تم جس کو چاہو اس کو اپنی آزاد رائے سے اپنا خلیفہ منتخب کر لو۔ لوگوں نے بااتفاق رائے کہا کہ ہم آپ ہی کو خلیفہ کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا۔

 اس طرح کی انقلابی تبدیلی انسانی سماج میں فوری طور پر نہیں آتی۔ اس کے مکمل ظہور کے لیے لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یہی اس معاملے میں بھی پیش آیا۔ اسلام کا پیدا کردہ جمہوری انقلاب تاریخ میں ایک عمل (process) کے روپ میں جاری ہوگیا۔ وہ ملک در ملک مسلسل سفر کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اٹھارہویں صدی میں یورپ میں داخل ہو کروہ فرانس کے جمہوری انقلاب کی صورت میں اپنی تکمیل کے مرحلہ تک پہنچا۔ موجودہ جمہوریت، جس کو مغربی جمہوریت کہا جاتا ہے، وہ دراصل اسلام کے اسی شورائی نظام کا ایک سیکولر ایڈیشن ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion