لائحہ عمل

حالات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہندستان میں وہ اسٹیج مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے جس کو استعمال کرکے مسلمان اپنا تاریخی رول ادا کر سکیں۔ تاہم کوئی بڑا تاریخی رول صرف اس وقت اد ا کرنا ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کی تمام ضروری شرائط پوری کی گئی ہوں، شرائط کی تکمیل کے بغیر اسباب کی اس دنیا میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔

1۔  میرے نزدیک اس معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمان اس پورے معاملے کو خالص انسانی نقطۂ نظر سے دیکھیں۔ وہ جو کچھ کریں عمومی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت کریں۔ اپنی گروہی برتری کا قیام یا اپنے حقوق کا حصول جیسے ذاتی مقاصد کو لے کر اگر کوئی جدوجہد شرو ع کی گئی تو پیشگی طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ کسی بھی مثبت یا قابل لحاظ نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی طاقت دوسروں کے حق میں خیر خواہی ہے۔ اسی طرح کسی انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی خود غرضی ہے۔ مسلمانوں کے اندر یہ اخلاقی اور روحانی اسپرٹ پیدا کرنا مجوزہ مشن کا سب سے پہلا نکتہ ہوگا۔

2۔  موجودہ حالات میں دوسرا ضروری کام یہ ہے کہ بڑے پیمانہ پر ہندو مسلم ڈائیلاگ شروع کیا جائے۔ کھلے ذہن کے تحت تمام فکری اور نظریاتی پہلوؤں پر گفتگو ہو۔ یہ کام مناظرہ کے انداز میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ خالص سائنٹفک انداز میں ہونا چاہیے، یعنی وہی انداز جو آج بھی مذہب کے سوا دوسرے علمی موضوعات میں جاری ہے۔

3۔   اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ مسلمان صحت مند مقابلے کے میدان میں پوری طرح داخل ہو جائیں۔ شکایت اور احتجاج اور مانگ اور مطالبات کے طریقہ کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ وہ رعایت حاصل کرکے جینے کے بجائے قابلیت کا ثبوت دے کر ملک میں اپنی جگہ بنائیں۔ تعلیم، تجارت، انڈسٹری، تمام سماجی اداروں اور پروفیشنل شعبوں میں امتیازی لیاقت پیدا کرکے آگے بڑھیں۔

4۔  قرآن کی مذکورہ آیت میں اقلیتی گروہ کے لیے جس غلبہ کی پیشین گوئی کی گئی ہے اس کی لازمی شرط، آیت کے مطابق، صبر ہے۔ قرآن کا یہ بیان حتمی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ فطرت کے مذکورہ قانون کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر و تحمل کا مادہ ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال میں فوری ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کیا جائے۔ سوچا سمجھا طریقہ اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ وقت درکار ہوتا ہے۔ تاکہ آدمی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ معاملے کو سمجھے۔ وہ تحقیق اور مشورہ کے مراحل سے گزر کر کوئی گہری رائے قائم کرے۔ اس طرح صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بے سوچے سمجھے اقدام سے بچے اور منصوبہ بند عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ مسلمانوں کو مثبت رول ادا کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ان پر فرض کے درجہ  میں ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر صابرانہ مزاج پیدا کریں۔ وہ ان کو جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندی کی تعلیم دیں۔

5۔  کوئی بھی کام کرنے کے لیے اس کے مطابق بنیاد(base) درکار ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اس ملک میں جو رول ادا کرنا ہے اس کے لیے بھی یہی ضروری تیاری درکار ہے۔ اور وہ بنیاد تعلیم اور کردار ہے۔ جو لوگ یہ درد رکھتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں اپنا مطلوب تعمیری کردار ادا کریں انہیں مہم کے انداز میں یہ کوشش شروع کر دینا چاہیے کہ مسلمان صد فی صد تعلیم یافتہ بن جائیں۔ اس تعلیمی نشانہ کو پورا کیے بغیر آگے کا کام نہیں ہو سکتا۔ اسی کے ساتھ انہیں دوسری مہم یہ جاری کرناہے کہ مسلمان اعلیٰ کردار کے حامل بنیں۔ مسجد اور مدرسہ سے لے کر اخبارات و رسائل تک ہر ذریعہ کو اس مقصد کے لیے پوری طرح استعمال کیا جانا چاہیے۔ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ اور اخلاق و کردار کے ذریعہ آدمی اس کا اہل بنتا ہے کہ وہ قابل اعتماد طور پر دنیا کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکے۔

6۔  آزادی کے بعد ملک میں جو سماج بنا وہ نفرت اور تشدد کا سماج تھا۔ اس منفی فضا میں ملکی تعمیر کا کام نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے مہاتما گاندھی نے آزادی(1947) کے وقت کہا تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ورنہ میں اسی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا:

Hindus and Muslims should learn to live together in peace and amity otherwise I will die in the attempt. (The Collected Works of Mahatma Gandhi, Vol. 93, p. 112)

بدقسمتی سے ابھی تک نفرت اور کشیدگی کی یہ فضا ختم نہ ہو سکی۔ یہ فضا ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے اور پورے ملک کے لیے سخت مہلک ہے۔ اس کی موجودگی میں ملک کے اندر کسی تعمیری منصوبہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ممکن کوشش کرکے اس کو ختم کیا جائے۔ ملک میں قومی یک جہتی اور برادرانہ محبت کا ماحول پیدا کیا جائے۔ اس کے بعد ہی یہاں کوئی حقیقی ترقیاتی کام کیا جا سکتا ہے۔

7۔  ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت جو تلخی پائی جاتی ہے اس کا بڑا سبب وہ غلط فہمیاں ہیں جو مذہب کی نسبت سے پیدا ہوتی ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو دور کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے ضرورت ہے کہ وسیع پیمانہ پر اسلام کے صحیح تعارف کی مہم جاری کی جائے۔ مختلف زبانوں میں اسلام کے مختلف موضوعات پر مثبت انداز کی کتابیں لکھ کر انہیں بڑے پیمانہ پر غیر مسلموں کے درمیان پھیلایا جائے۔

8۔  کوئی قوم صحیح رول صرف اس وقت ادا کر سکتی ہے جب کہ اس کو صحیح قیادت حاصل ہو جائے مگر صحیح قیادت کا تعلق خود قیادت سے زیادہ قبولیت قیادت کی صلاحیت سے ہے۔ قوم کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ وہ تعمیری قیادت اور استحصالی قیادت کے فرق کو سمجھ سکے۔ وہ حقیقت پسندانہ کلام اور جذباتی کلام کو پہنچانے۔ جس قوم میں یہ استعداد نہ ہو وہ ہمیشہ استحصالی قیادت کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسلم عوام میں یہ مزاج پیدا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر کسی گہرے منصوبے کے لیے مسلمانوں کو متحرک نہیں کیا جا سکتا۔

9۔  سیاست کے میدان میں مسلمانوں کا رول اب تک منفی رائے دہندگی (negative voting) کا رہا ہے۔ یعنی کسی بنا پر جس سے انہیں ناراضگی ہو جائے اس کے خلاف ووٹ دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا۔ اس قسم کی منفی سیاست نہ مسلمانوں کے لیے مفید ہے اور نہ ملک کے لیے۔ جمہوریت دراصل طاقت میں اشتراک(power sharing) کی سیاست کا نام ہے۔ ہندستان میں مسلمان مرکزی پارلیمنٹ کی تقریباً100 سیٹوں پر فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر وہ اپنے ووٹ کو درست طور پر استعمال کریں تو ملک کے سیاسی نظام میں وہ فیصلہ کن تعمیری رول ادا کر سکتے ہیں۔ مگر ابھی تک یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ضرورت ہے کہ ان کے اندر صحیح سیاسی شعور پیدا کیا جائے تاکہ وہ جذباتی سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کا طریقہ اختیار کر سکیں اور یہاں کے سیاسی مواقع کو مفید طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو جائیں۔

10۔    مسلمانوں کو اس ملک میں مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ حالات کے اعتبار سے اس کی ایک ابتدائی تدبیر یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مسلم۔ کرسچین محاذ بنانے کی کوشش کریں۔ اس محاذ کا مقصد اپنے حقوق کا حصول نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ وہ ملک کی عمومی تعمیر میں اپنا مثبت رول زیادہ مضبوط اور مستحکم طور پر ادا کر سکیں۔ اگر حقیقی معنوں میں یہ مسلم۔ کرسچین محاذ بن جائے تواس کے بعد یقینی طور پر دلت بھی اس میں شامل ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ ملک کے دوسرے کئی طبقے بھی۔ یہ کام اگر خالص تعمیری انداز میں کیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وقت یہ محاذ ملک میں صالح سیاسی قیادت کا خلا بھی پر کرنے کے قابل ہو جائے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion