اضافۂ آبادی کا ہوّا
متعدد سینئر شہریوں نے یہ بات کہی کہ شادی بیاہ کا معاملہ انتہائی نجی معاملہ ہے۔ اگر کوئی کمیونٹی چاہتی ہے کہ اسی نجی معاملے میں وہ اپنے روایتی طریقہ پر قائم رہے تو اس میں دوسری کمیونٹی والوں کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت۔ اس واضح نامعقولیت کے باوجود کچھ انتہا پسند پولیٹیکل عناصر کیوں یونیفارم سول کوڈ لانے کے لیے اتنا زیادہ شوروغل کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے اعلان کر دیا ہے کہ آنے والے لوک سبھا الیکشن میں ان کا اصل انتخابی اشو (main poll theme) یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ ہوگا (دی ہندستان ٹائمس17 جولائی 1995)۔ جب کہ یقینی طور پر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یونیفارم سول کوڈ کی بنیاد پر قانون بنانے کا عملاً کوئی امکان نہیں۔ اس جوش و خروش کا سبب خود یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔ یہ عناصر انتہائی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت یہ غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ہندستان میں مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگلی صدی کے نصف اول میں یہ واقعہ ہونے والا ہے کہ مسلمان یہاں اکثریت میں ہو جائیں اور ہندو خود اپنے ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں۔
اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے لیے انھوں نے ایک پر فریب نظریہ وضع کیا ہے۔ وہ اکثریتی فرقہ کے عوام سے کہتے ہیں کہ دیکھو، آزادی کے بعد بننے والی گورنمنٹ نے ہندو میرج ایکٹ 1955 کے ذریعہ ہندوؤں کو تو قانونی طور پر پابند کر دیا کہ وہ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا جو پرسنل لا ایکٹ (1860) ہے، اس کے تحت ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ چار بیویاں رکھے۔ ہندو کے اوپر پابندی لگی ہوئی ہے، مگر مسلمان کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندو کے مقابلے میں مسلمان چار گناہ زیادہ بچے پیدا کر سکتا ہے۔ اس ملک میں ہندوؤں کی آبادی اگر1-2-3-4 کی رفتار سے بڑھے گی تو مسلمانوں کی تعداد32-16-8-4کی رفتار سے بڑھتی چلی جائے گی۔ اپنے سیاسی حریف کی اس طرح بھیانک تصویر دکھا کر یہ لوگ ہندوؤں میں اپنا ووٹ بینک بنا رہے ہیں۔ وہ ہندو عوام سے کہہ رہے ہیں کہ اس ہندو دردودھی سرکار کے خلاف ووٹ دے کر اس کو باہر پھینک دو:
Throw out this anti-Hindu government.
یہ پروپیگنڈا بلاشبہ آخری حد تک بے بنیاد ہے۔ مسلمان عام طور پر ایک ہی شادی کرتے ہیں۔ میری عمر73 سال ہو چکی ہے۔ مگر اس پوری مدت میں میرے علم میں کوئی ایک بھی ہندوستانی مسلمان نہیں آیا جس نے چار شادیاں کر رکھی ہوں۔ حتیٰ کہ ایسا کرنا ممکن بھی نہیں۔ کیوں کہ تمام مسلمان چار شادیاں اس وقت کر سکتے ہیں جب کہ ان کے یہاں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد چار گنا زیادہ ہو۔ یا ان کے پاس کوئی ایسا کارخانہ ہو جہاں وہ زیادہ عورتیں پیدا کر سکیں۔ مگر موجودہ مسلم سماج میں نہ تو عورتیں زیادہ ہیں اور نہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔ ایسی حالت میں ان کے لیے کیوں کر ممکن ہوگا کہ ان میں سے ہر شخص چار چار بیویاں رکھے۔ مسٹر بلراج پوری کا ایک پیرا گراف اس سلسلے میں نقل کرنے کے قابل ہے:
’’اس خدشہ کا پہلا مقدمہ کہ تعدد ازواج کے حق میں قانونی دفعہ اس پر عمل تک بھی پہنچائے گی، شماریاتی مطالعہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ عورت کی حیثیت کے بارے میں نیشنل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، تعدد ازواج فی الحقیقت دوسرے فرقوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے اندر کم ہے۔ اس کا دوسرا مقدمہ کہ تعدد ازواج مسلمانوں کی آبادی کو زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھائے گا، منطقی طور پر مغالطہ آمیز ہے۔ بچہ پیدا کرنے کے قابل عورتوں کی تعداد چونکہ ہمیشہ یکساں رہتی ہے، اگر کچھ مرد ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو بہت سے مردوں کو بیویاں ہی نہیں ملیں گی۔ کسی فرقہ میں غیر شادی شدہ مردوں کی کثیر تعداد کسی بھی طرح اس فرقہ کی تولیدی صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتی۔ واضح طور پر، چار آدمی چار بیویوں کے ساتھ زیادہ بچے پیدا کریں گے، بمقابلہ اس کے کہ ایک ہی مرد کے ساتھ چار بیویاں ہوں۔ اس طرح تعدد ازواج کا طریقہ آبادی میں اضافہ کی رفتار کو گھٹانے والا ہے نہ کہ اس کو بڑھانے والا‘‘ (انڈین ایکسپریس 6 جولائی 1995)۔
تقریباً یقینی ہے کہ مذکورہ انتہا پسند سیاسی عناصر اگلے الیکشن میں ہندو ووٹروں سے کہیں گے کہ دیکھو، دستور کی دفعہ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود مسلمان یکساں سول کوڈ بنانے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ وہ ایسا قانون بنانے کے مخالف اس لیے ہیں کہ اس کے بعد انہیں چار شادیوں کی اجازت نہیں رہے گی اور اس طرح وہ اپنی آبادی بڑھانے اور ہندوؤں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بارے میں اپنے منصوبہ کی تکمیل نہ کر سکیں گے۔ اس لیے ہمیں ووٹ دے کر ہم کو اقتدار تک پہنچاؤ تاکہ ہم اس خطرہ کو دفع کر سکیں۔ مگر اس پروپیگنڈے کا بے بنیاد ہونا ہی اس کے لیے کافی ہے کہ خدا کی دنیا میں وہ کامیاب نہ ہو۔
ملک کا سب سے بڑا اخبار ٹائمس آف انڈیا ہر روز اپنے پہلے صفحہ پر اس قانون فطرت کا اعلان کرتا ہے کہ سچائی غالب آتی ہے(Let Truth Prevail)۔
