قانون کی محدودیت

قانون کوئی بالاتر چیز نہیں۔ دوسری تمام انسانی چیزوں کی طرح انسانی قانون بھی ایک محدود چیز ہے۔ ایک حد کے بعد انسانی سماج پر اس کی گرفت ختم ہو جاتی ہے۔

1975ء میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ اس میں اندرا گاندھی کے انتخاب کو نہ صرف رد کیا گیا تھا بلکہ اندر اگاندھی کو چھ سال تک انتخاب میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کرکے مزید اضافہ کے ساتھ دہلی کی حکومت پر قبضہ کر لیا۔

1986 میں یو پی کی ایک عدالت نے اپنے فیصلہ کے تحت بابری مسجد کا بند دروازہ کھلوادیا تاکہ ہندو آسانی کے ساتھ اس کے اندر پوجا کی رسم ادا کر سکیں۔ بظاہر اس کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان خوش گوار تعلق قائم کرنا تھا۔ مگر اس کا عملی نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد ایسا طوفان برپا ہوا کہ ہندو مسلم تعلقات آخری حد تک بگڑ گئے اور ہندستان سیاسی اور اقتصادی تباہی کے کنارے پہنچ گیا۔

شاہ بانو کیس میں1985 میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ بظاہر اس کا مقصد عورتوں کے ساتھ انصاف کرنا تھا، مگر عملی نتیجہ یہ ہوا کہ راجیو گاندھی گورنمنٹ نے ایک قانون بنا کر سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو کالعدم کر دیا۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس معاملے کو بھرپور طور پر اپنے سیاسی فائدہ کے لیے استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ہندوستانی پارلیمنٹ میں اس کے ممبروں کی تعداد دو سے بڑھ کر19 تک پہنچ گئی اور کئی ریاستوں میں اس کی حکومت قائم ہوگئی۔

قانون کی محدودیت اس سے بھی ثابت ہے کہ ہندو کو ڈبل1955 میں اگرچہ کسی ہندو کے لیے صرف ایک ہی نکاح کی اجازت رکھی گئی ہے۔ مگر1961 کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی شرح ہندوؤں کے اندر مسلمانوں سے زیادہ ہے:

According to the Indian census report of 1961, the percentage of Hindus having more than one wife was more than that of the Muslims.

انگریزوں نے ہندستان میں اپنے دو سو سالہ اقتدار کے زمانے میں صرف پانچ سو قانون بنائے۔ ہمارے لیڈروں کو ملک میں1947 میں اقتدار ملا تو انھوں نے45 سال کی مدت میں پانچ ہزار سے زیادہ قانون بنا ڈالے۔ مگر اصلاحی قوانین کی کثرت صرف اُلٹا نتیجہ دینے والی (counter-productive) ثابت ہوئی۔ اس کے بعد ملک میں جھگڑے بہت بڑھ گئے۔ کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہوگیا۔ انصاف حاصل کرنا انتہائی دشوار کام بن گیا۔ عورتوں کی حالت ہمیشہ سے زیادہ خراب ہوگئی۔ یہ حالات سماج سدھار کے لیے نئی تدبیر تلاش کرنے کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ قوانین میں مزید اضافے کا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion