تبدیلیٔ مذہب کا مسئلہ

سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ کے سامنے جو پٹیشن تھا اس کا براہ راست کوئی تعلق یونیفارم سول کوڈ سے نہیں تھا۔ یہ پٹیشن دراصل چار ہندو خواتین کی طرف سے عورتوں کی ایک تنظیم کلیانی (Kalyani) نے دائر کیا تھا۔ اس تنظیم کی پریذیڈنٹ شریمتی سرلامدگل ہیں۔ ان چار ہندو عورتوں نے کہا تھا کہ ہمارے شوہروں نے اسلام قبول کرکے دوسرا نکاح کر لیا ہے، جب کہ انھوں نے ہمیں طلاق نہیں دی۔ ان کا قبول اسلام صرف اس لیے تھا کہ وہ اسلام کے قانون نکاح سے فائدہ اُٹھا کر اپنے لیے دوسری بیوی حاصل کر سکیں۔ اس لیے عدالت ان کے دوسرے نکاح کو کالعدم قرار دے کر ہماری مدد کرے۔

عدالت نے مذکورہ پٹیشن کو منظور کرتے ہوئے چاروں ہندوؤں کے دوسرے نکاح کو کالعدم قرار دے دیا اور ان کو ان کی پہلی بیوی کی طرف واپس لوٹا دیا۔ یہ فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس کلدیپ سنگھ لکھتے ہیں:

جب تک ہم اصل منزل تک نہ پہنچیں، یعنی ہندستان کے تمام شہریوں کے لیے یونیفارم سول کوڈ، اس وقت تک یہاں ہندو شوہر کے لیے ایک کھلا محرک (inducement) باقی رہے گا جو کہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہو۔ جبکہ اس کی پہلی بیوی ابھی موجود ہو، ایسا ہندو اپنے مسلم ہونے کا اعلان کرکے دوسری شادی کرے گا۔ چونکہ ہندوؤں کے لیے یک زوجگی کا قانون ہے اور مسلم قانون چار شادیوں تک کی اجازت دیتا ہے، کوئی کج رو ہندو شوہر ایسا کر سکتا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لے تاکہ ہندو لا کے ضوابط سے بچ سکے اور دوسری شادی کے باوجود فوجداری قانون کی پکڑ میں نہ آئے (صفحہ5)۔

اسی نقطۂ نظر کی حمایت کرتے ہوئے دی ہندستان ٹائمس 21 جون1995 میں لیٹرس کے کالم میں مسٹر چمن لال ورما نے لکھا تھا کہ یکساں سول کوڈ کی ضرورت اس لیے ہے کہ ان لوگوں کو مذہب کے غلط استعمال سے روکا جا سکے جو ایک قانون کی دفعات سے بچنے کے لیے دوسرے قانون کی دفعات کا سہارا لیتے ہیں:

A uniform civil code is required to prevent misuse of religion to evade the provisions of one law to take advantage of those of another.

نیا قانون بنانا کسی بھی درجہ میں پچھلے قانون کے غلط استعمال کے خلاف چیک نہیں۔ قانون کے غلط استعمال کا موقع ہر حال میں باقی رہتا ہے۔ ٹیکس ماری کو روکنے کے لیے بے شمار قوانین اور ضوابط بنے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ٹیکس ماری کا سلسلہ ہمالیائی سطح پر جاری ہے۔ پھر جب کسی بھی قانون میں اس کے غلط استعمال کو روکنا ممکن نہ ہو سکا تو سول کوڈ میں کیونکر ایسا ممکن ہو جائے گا۔

دوسری بات یہ کہ یونیفارم سول قانون کے نفاذ کے بغیر اگر ایسے ہندوؤں کے لیے کوئی قانونی چیک نہیں ہے تو سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان کے لیے کیوں کر ایسا ممکن ہوا کہ وہ ایسے غلط ہندوؤں کے لیے سزا کا فیصلہ سنائیں اور ان کے دوسرے نکاح کو باطل (invalid) قرار دے دیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے جج صاحبان نے اپنا مقصد انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 494 کے ذریعہ حاصل کیا۔ گویا عدالت کی خود اپنی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں بالفعل ایسے مانع قوانین موجود ہیں اور کج رو ہندو کے لیے یہاں کوئی بے قید محرک پایا نہیں جاتا، حتیٰ کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی نہیں۔ پھر ایسے کج رو لوگوں کو کج روی سے روکنے کے لیے کسی نئے سول قانون کی کیا ضرورت:

The Court`s own ruling shows that no such inducement is available to an "errant Hindu" even under existing law. You do not need a civil code to deter him.

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion