مذہبی آزادی ایک لازمی حق

جو لوگ دستور کی دفعہ44 کا حوالہ دے کر یونیفارم سول کوڈ کی وکالت کرتے ہیں۔ انھوں نے غالباً اس پر بہت کم غور کیا ہے کہ خود اسی دستور کی دفعہ 25 میں اس کی تردید موجود ہے۔ دستور ہند کی دفعہ 25 میں ہندستان کے ہر شہری کو ضمیر اور مذہبی عمل اور مذہبی تبلیغ کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد مساوی طور پر آزادیِ  ضمیر کا حق رکھتے ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ آزادانہ طور پر مذہب کا اقرار کریں، اس پر عمل کریں اور اس کی تبلیغ کریں۔

All persons are equally entitled to freedom of conscience and the right freely to profess, practice and propagate religion.

مذہب کا یہ انتخاب فرد یا گروہ کی خود اپنی مرضی پرمنحصر ہو گا۔ اسی لیے دفعہ 25 کی تشریح (explanation I) میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کی مذہبی آزادی میں ان کا یہ حق بھی شامل ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے مطابق اپنے ساتھ کرپان (تلوار) رکھیں۔ دستور میں ’’کلچرل  رائٹس‘‘ کے تحت عمومی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ہندستانی شہریوں کا کوئی بھی طبقہ جو اپنا الگ کلچر اور زبان رکھتا ہو ، اس کو حق ہو گا کہ وہ اپنے کلچر اور زبان کی حفاظت کرے (دفعہ29)۔

مزید یہ کہ مذہبی آزادی کی دفعہ جو دستورمیں ہے وہ دستور کے اس حصہ میں ہے جس کا تعلق شہریوں کے بنیادی حقوق (fundamental rights) سے ہے ، جب کہ مذکورہ دفعہ 44 دستور میں دیے ہوئے رہنما اصول (directive principles) کے تحت آئی ہے۔ اور خود دستور کی دفعہ 37 کے مطابق، اس کے رہنما اصول کی دفعات اس کے بنیادی حقوق کی دفعات کے تابع ہیں نہ کہ اس سے آزاد۔

ایسی حالت میں دستور کی دفعہ 44 کا حوالہ دے کر حکومت سے یہ کہنا کہ وہ یکساں سول کوڈ کو بذریعہ قانون ملک میں نافذ کرے، خود دستور کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ جب تک ملک میں کوئی گروہ ایسا موجود ہے جو اس قسم کی قانون سازی کو اپنے مذہب میں بے جا مداخلت قرار دیتا ہے ، اس وقت تک خود دستور کی روسے ایسا قانون بنانا ممکن نہیں اور اگر کوئی پارلیمنٹ ایسا قانون بنائے اور ملک کا کوئی مذہبی گروہ ا س کے خلاف سپریم کورٹ میں مرافعہ کرے تو عدالتِ عالیہ جو دستور کی محافظ ہے ، وہ یقینی طور پر ایسے قانون کو کالعدم قرار دے دے گی۔

دستور ہند میں مذہبی آزادی کی دفعہ کوئی سادہ بات نہیں ہے۔ یہ انسانی حقوق کے اس عالمی منشور (Universal Declaration of Human Rights) کے تحت ہے جس کو اقوام متحدہ نے 1948 میں جاری کیا تھا، اور جس کا ایک مستقل ممبر ہندستان بھی ہے۔ اس منشور کے آرٹیکل18 میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ہر آدمی کو مذہب کی آزادی ہو گی۔ ا س میں مذہب بدلنے کی آزادی اور اپنے پسندیدہ مذہب پر عمل کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔

ہندستان نے اس عالمی منشور پر قومی حیثیت سے اپنا دستخط ثبت کیا ہے۔ اس طرح مذہبی آزادی ہر ہندوستانی شہری کا ایک ایسا حق بن جاتی ہے جس کو کسی بھی حال میں ساقط نہیں کیا جا سکتا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion