کامن کوڈ اور قومی ایکتا

کامن سول کوڈ کا مقصد کیا ہے۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہے گا کہ کامن کوڈ برائے کامن کوڈ (common code for the sake of common code) ہمارا مقصد ہے۔ پھر اس کا اصل مقصد کیا ہے، اس کے تمام وکیل متفقہ طور پر اس کا ایک ہی فائدہ بتاتے ہیں۔ وہ یہ کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں باہمی قربت پیدا ہو گی۔ اور مشترک قومیت کو وجود میں لانے میں مدد ملے گی۔ کامن کوڈ لوگوں کے اندر کامن فیلنگ پیدا کرے گا۔ اس طرح وہ مضبوط انڈین نیشن وجود میں آ جائے گی جس کا پچاس سال سے ہم کو انتظار ہے۔

مگر یہ محض قافیہ بندی کی بات ہے۔ صرف لفظی اشتراک کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کامن کوڈ سے کامن فیلنگ کا ظہور ہو گا۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی لازمی رشتہ نہیں۔ تمام متعلق حقائق اس نظریہ کی تردید کرتے ہیں۔

جسٹس کلدیپ سنگھ اپنے فیصلہ میں لکھتے ہیں کہ حکومت نے ہندوؤں کے روایتی قانون کو کوڈ کی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔ ہندو میریج ایکٹ 1955 ہندو سیکشن ایکٹ 1956، ہندو مائناریٹی اینڈ گارجین شپ ایکٹ 1956، ہندو اڈاپشن اینڈ  مینٹننس ایکٹ 1956 بنایا جا چکا ہے۔ ان قوانین نے روایتی ہندو قانون کی جگہ لے لی ہے جو کہ مختلف مکاتب فکر اور مذہبی کتابوں پر مبنی تھا۔ ان جدید قوانین نے ان سب کو ایک یونیفارم کوڈ کی حیثیت دے دی ہے۔ جب 80فیصد سے زیادہ شہری پہلے ہی سے مشترک پرسنل قانون کے تحت لائے جا چکے ہیں تو اب اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ ہندستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو مزید التوا میں ڈالا جائے (صفحہ2)۔

جسٹس کلدیپ سنگھ مزید لکھتے ہیں کہ آخر حکومت کو کتنا زیادہ وقت چاہیے کہ وہ دستور ہند کی دفعہ 44 کے تحت دی ہوئی ہدایت کی تعمیل کرے۔ ہندوؤں کا روایتی قانون ، ہندوؤں کا پرسنل لا جس کا تعلق وراثت، جانشینی اور شادی بیاہ سے ہے، بہت پہلے 56…1955 میں قانونی کوڈ کی صورت اختیار کر چکا۔ اب کسی بھی قسم کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے کہ ملک میں یونیفارم پرسنل لا کے نفاذ میں غیر متعین تاخیر کی جائے۔ ہندوؤں کا پرسنل لا، جس کا تعلق شادی ، جانشینی وغیرہ سے ہے، وہ سب اسی طرح مقدس سمجھے جاتے ہیں جیسا کہ مسلمانوں یا عیسائیوں کے قانون۔ مگر ہندو اور ان کے ساتھ سکھ ، بدھسٹ اور جینی فرقہ نے قومی اتحاد اور استحکام کی خاطر اپنے جذبات کو بھلا دیا۔ تاہم کچھ اور فرقوں نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے، اگرچہ دستور پورے ہندستان میں ایک ہی کامن سول کوڈ نافذ کرنے کی تاکید کرتا ہے (صفحہ22-21)۔

جسٹس کلدیپ سنگھ کے فیصلہ کا جو اقتباس ہم نے اوپر نقل کیا ہے، اس موصوف کے نزدیک ملک کی بہت بڑی اکثریت (80 فیصد سے زیادہ) اس مشترک عائلی قانون کے تحت بالفعل لائی جا چکی ہے جس کے لیے وہ مکمل قسم کا یکساں پرسنل قانون بنانے کی پُرزور وکالت کر رہے ہیں۔ پھر جب آبادی کی اتنی بڑی اکثریت میں مطلوب قانون عملاً آچکا ہے تو اس کے وہ مثبت نتائج کہاں ہیں جو اس کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی ہر سطح پر قومی یک جہتی کا فقدان ہے۔ لوگوں میں کوئی نیشنل کیرکٹر نہیں۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں اجلاس کے دوران ایسے ہنگامے ہوتے ہیں کہ کارروائی کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گاؤں پنچایتوں میں پہلے سے بھی زیادہ جھگڑے ہو رہے ہیں۔ عدالتوں میں نزاعی مقدمات کی بھرمار ہے۔ دو مختلف فرقوں سے بھی زیادہ ایک ہی فرقہ کے مختلف طبقات میں ٹکراؤ ہو رہا ہے۔ اکثر ریاستوں میں علاقائی ہنگامے جاری ہیں۔ حتیٰ کہ کئی ریاستوں میں علیحدگی کی متشدانہ تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا سول قانون ایک ہی ہے۔ مگر ان جماعتوں نے اتنے بڑے پیمانہ پر باہمی لڑائی جاری کر رکھی ہے کہ ملک کا استحکام شدید طور پر خطرہ میں پڑ گیا ہے، وغیرہ۔

معلوم ہوا کہ خود سپریم کورٹ کے مذکورہ جج صاحبان کے فیصلہ کے مطابق، اصل مسئلہ کامن کوڈ کے نفاذ کا نہیں ہے، بلکہ کامن کوڈ کے نفاذ کے باوجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیں چاہیے کہ ہم دوسری تدبیر تلاش کریں نہ کہ ناکام ہو جانے والی تدبیر کے مزید بے سود اعادہ پر اپنا وقت ضائع کریں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion