محبت فاتح عالم
قرآن کی سورۃ الانعام (90-6:83) میں ایک ساتھ تقریباً 18 پیغمبروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی شامل ہیں۔ پیغمبروں کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں یہ آیت ہے کہ— اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ (6:90) یہ وہ پیغمبر ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تو تم بھی ان کی ہدایت کی اتباع کرو۔
اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوسرے انبیاء بھی اُمت محمدی کے لیے قابل اتباع ہیں۔ یہ بات قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی کہی گئی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورۃ الشوری میں ارشاد ہوا ہے— اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو دیا تھا کہ تم لوگ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں الگ الگ نہ ہو جاؤ (42:13)۔
معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلامﷺ سے پہلے خدا کے جو پیغمبر آئے، ان کے ثابت شدہ طریقے امت محمدی کے لیے بھی اسی طرح نمونہ ہیں جس طرح وہ خود ان پیغمبروں کی اپنی امت کے لیے نمونہ تھے۔ دیگر انبیاء کا قابل اتباع ہونا قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ اور علمائے اسلام نے اس کو ایک اصول دین کے طور پر تسلیم کیا ہے (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، جلد1، صفحہ 462)۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پچھلے انبیاء کے حالات کافی تفصیل سے آئے ہیں۔ یہ حالات محض ایک داستان کے طور پر نہیں ہیں بلکہ وہ نمونہ کے طور پر ہیں۔ چنانچہ جس طرح پیغمبر اسلام ﷺ کے اتباع کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں اسوۃ کا لفظ آیا ہے (33:21)۔ اسی طرح قرآن میں حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کو بھی اہل اسلام کے لیے اسوۃ (نمونہ) قرار دیا گیا ہے (60:4-6)۔
قرآن کا یہ اصول عملی اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ اس لیے کہ انسان کی زندگی بے حد وسیع اور متنوع ہے۔ فرد اور جماعت دونوں کے حالات ہمیشہ بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر ہر پیغمبر اور ان کے متبعین کے یہاں ایسی مثالیں ملتی ہیں جو بعد کے لوگوں کے لیے نمونہ بن سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں پچھلے نبیوں کے مستند حالات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں تاکہ بعد کے زمانے کے خدا پرست لوگ ان سے اپنے حالات میں رہنمائی لے سکیں۔ قرآن میں اگر پچھلے پیغمبروں کے یہ واقعات نہ بتائے جاتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ قدیم زمانے کے انبیاء اور ان کے پیروؤں کے دینی تجربات ہمیشہ کے لیے غیر معلوم رہتے۔ اور ان سے فائدہ اُٹھانا بعد کے اہل ایمان کے لیے ممکن نہ ہوتا۔
