علم کی عمومی اشاعت

اسلام سے پہلے کسی بھی زمانے میں علم کی عمومی اشاعت نہ ہو سکی۔ قدیم زمانے کی پوری معلوم تاریخ علم کی عمومی اشاعت سے خالی ہے۔ اس زمانے میں مختلف مقامات پر کچھ ایسے افراد ضرور پیدا ہوئے جنہوں نے علمی تحقیق میں دلچسپی لی مثلاً یونان، مصر، شام، انڈیا، چین، وغیرہ۔ انھوں نے اپنی علمی دریافتوں کو کتابوں کی صورت میں قلم بند کیا مگر یہ کتابیں عمومی طور پر پھیل نہ سکیں۔ وہ انفرادی دائرہ میں محدود ہو کر رہ گئیں۔

 اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب اور کلچر کا جو ڈھانچہ تھا وہ مکمل طور پر توہماتی روایات پر مبنی تھا۔ ہر قوم توہماتی عقائد میں جی رہی تھی۔ ایسی حالت میں لوگ علمی تحقیقات سے ڈرتے تھے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر سمجھتے تھے کہ اگر کوئی نئی تحقیق سامنے آگئی تو ان کا توہماتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔ اس بنا پر وہ علمی تلاش و جستجو کے سخت مخالف بنے رہے۔

اسلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس نے مذہب کو توہماتی اجزاء سے پاک کیا۔ اس نے مذہب کو توہمات کے بجائے فطرت کے اٹل قوانین پر قائم کیا۔ اس مذہبی انقلاب نے اہل اسلام کو اس ذہنی پیچیدگی سے پاک کر دیا جس میں پچھلے لوگ مبتلا رہتے تھے۔ اب ان کو یہ خطرہ نہیں رہا کہ کوئی علمی دریافت ان کے مذہب کو غلط ثابت کر دے گی۔ وہ اس یقین میں جیتے تھے کہ ہر علمی دریافت اسلام کے مطابق ثابت ہوگی کیوں کہ جو اسلام ہے وہی فطرت ہے، اور جو فطرت ہے وہی اسلام ہے۔

 اس یقین نے اہل اسلام کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ ساری دنیا کے علوم کو حاصل کریں۔ اس مقصد کے تحت ہر جگہ کی علمی کتابوں کا عربی ترجمہ کرنے کے لیے بڑے بڑے مراکز قائم ہوئے۔ ان میں سے بغداد کا بیت الحکمت (830) اور قاہرہ کا دارالحکمت (1005) زیادہ مشہور ہیں۔ اس زمانے میں دنیا بھر کی علمی کتابوں سے استفادہ کرنا ایک عمومی تحریک بن گیا۔ امراء اور حکام نے بڑی بڑی رقمیں خرچ کرکے اپنے وفود دنیا کے مختلف شہروں میں بھیجے اور وہ علمی ذخیرے جو گھروں اور کتب خانوں میں بند پڑے ہوئے تھے ان کو حاصل کرکے ان کے ترجمے عربی زبان میں کرائے۔

اس طرح یہ قدیم علوم پہلے مسلمانوں کے درمیان پھیلے۔ اس کے بعد یہ علوم مسلمانوں کی پیش قدمی کے ساتھ دوسرے ملکوں میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے جب اسپین میں سلطنت قائم کی تو یہ عربی کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہونے لگیں۔ اس طرح یہ علوم افریقہ اور ایشیا اور یورپ کی پوری آباد دنیا میں پھیل گئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion