ناخوشگواریوں پر صبر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ ہے۔ ایک قحط زدہ علاقہ کی مدد کے لیے آپ نے ایک یہودی تاجر سے کچھ دینار قرض لیے۔ اس یہودی کا نام زید بن سعنہ تھا۔ زید بن سعنہ سے یہ طے ہوا کہ آپ فلاں مقررہ مدت پر80مثقال کھجوریں ادا کریں گے۔
کھجوروں کی ادائیگی کے وقت میں ابھی دو تین دن باقی تھے۔ کہ زید بن سعنہ اچانک آئے۔ اور ترش روئی کے ساتھ اپنے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت آپ کے کندھے پر ایک چادر پڑی ہوئی تھی۔ زین بن سعنہ نے چادر کو پکڑ کر زور سے کھینچا اور کہا کہ اے محمد میرا قرض کیوں نہیں ادا کرتے خدا کی قسم، میں اولاد مطلّب کو جانتا ہوں۔ وہ سب کے سب نادہند ہیں۔
اس وقت حضرت عمر بن الخطاب آپ کے پاس موجود تھے۔ وہ غصہ ہوگئے اور بگڑ کر کہا کہ اے خدا کے دشمن تو یہ کیا کہہ رہا ہے۔ کیا تو اس سے نہیں ڈرتا کہ تیری گردن مار دی جائے۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ذرا بھی غصہ نہیں ہوئے۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہیں کہا کہ تم وقت سے پہلے کیوں قرض کا تقاضا کر رہے ہو۔ اس کے بجائے آپ نے حضرت عمر کو تنبیہ کی اور کہا کے اے عمر، میں اور یہ ایک اور چیز کے زیادہ محتاج تھے، وہ یہ کہ تم مجھ کو حق کی بہتر ادائیگی کے لیے کہتے اور اس کو حق کے بہتر مطالبہ کے لیے۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ زید بن سعنہ کو مقرر مقدار میں کھجوریں ادا کر دی جائیں۔ نیز عمر کی سخت کلامی کے بدلے میں20 صاع کھجور اور زیادہ دی جائے۔ زین بن سعنہ آپ کے اس سلوک کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہوگئے (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 793)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرب کے حکمراں تھے۔ وہ زید بن سعنہ کے خلاف کوئی بھی سخت کارروائی کرنے کا پورا اختیار رکھتے تھے۔ اس کے باوجود آپ نے زید بن سعنہ کی گستاخی اور بدسلوکی کو یک طرفہ طور پر برداشت کیا ۔ آپ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہیں ہوئے۔ یہ ایک انتہائی کامل اور تاریخی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ اعلیٰ انسانی سلوک کیا ہے۔ اور کس طرح ایسا ہو سکتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ایک شخص صبر و برداشت کے اصول پر قائم رہ کر زندگی گزار سکے۔
