باہمی تفریق برٹش کی دین
آج جس ’’کامن فیلنگ‘‘کی بات کی جا رہی ہے وہ اس سے پہلے صدیوں سے ہمارے ملک میں پوری طرح موجود تھی۔ ملک کے مختلف فرقے مل جل کر محبت کے ساتھ باہم زندگی گزارتے تھے۔ حالانکہ اس زمانے میں کامن سول کوڈ جیسی کسی چیز کو سرے سے کوئی وجود نہ تھا۔ ہر فرقہ کی کلچرل شناخت الگ تھی ، اور ہر ایک اپنی اپنی مذہبی روایت کے مطابق شادی بیاہ کی رسوم ادا کرتا تھا۔ پھر بھی وہ چیز پوری طرح موجود تھی جس کو قومی یک جہتی کہا جاتا ہے۔
ہندستانی سماج کے اس توازن کو جس چیز نے برہم کیا وہ کوئی غیر کامن کوڈ نہیں تھا، بلکہ سابق برٹش حکومت کی وہ پالیسی تھی جس کو سابق لفٹنٹ جنرل کوک (General Coke) نے فارمولے کی صورت دیتے ہوئے کہاتھا کہ لڑاؤ اور حکومت کرو:
Divide and rule
اس غیر مطلوب صورت حال کا ابتدائی آغاز لارڈ ایلگن (James Bruce Eligin, 1811-1863) کے زمانے میں ہوا جو1862-63 میں ہندستان کا وائسرائے تھا۔ برٹش گورنمنٹ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ مسٹر وڈ (Wood) نے لندن سے نئی دہلی میں مقیم وائسرائے کو خط لکھاکہ :
We have maintained our power in India by playing off one part against the other and we must continue to do so. Do all you can, therefore, to prevent all having a common feeling.
ہم نے ہندستان میں اپنا اقتدار وہاں کے ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ کے خلاف لڑا کر باقی رکھا ہے۔ ہمیں ایسا کرتے رہنا چاہیے۔ اس لیے لوگوں کو مشترک احساس سے روکنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہو کرو (دی ہندستان ٹائمس 30 مارچ 1995)۔
برٹش حکمرانوں کی یہی سوچی سمجھی پالیسی تھی جس نے ہندستان کی بنی بنائی مشترک قومیت کو بکھیر دیا۔ انھوں نے ہر موقع کو استعمال کر کے لوگوں کے درمیان نفرت کو بھڑکایا۔ انھوں نے حکومت کے تمام ذرائع سے کام لے کر باہمی نفرت کا ایک مصنوعی جنگل اُگا دیا۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد بھی یہ آگ بجھائی نہ جا سکی اور اس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ یہی اس کی اصل وجہ ہے۔ اس کے علاوہ یونیفارم سول کوڈ کے ہونے یانہ ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
