سیکولر علوم کی بنیاد آزادانہ ریسرچ پر قائم کرنا
پیغمبر اسلامﷺ مکہ میں پیدا ہوئے جہاں کھجور کے درخت نہیں ہوتے تھے۔ نبوت کے تیرہویں سال آپ وہاں سے ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ مدینہ میں کثرت سے کھجور کے درخت پائے جاتے تھے۔ ایک روز جب کہ آپ شہر کے باہر چل رہے تھے، آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ اس وقت وہ کام کر رہے تھے جس کو عربی میں تابیر یا تلقیح کہا جاتا ہے۔ یعنی مصنوعی زرخیزی(pollination)۔ ان لوگوں نے آپ کے پوچھنے پر بتایا کہ ہم ایسا اور ایسا کر رہے ہیں۔ آپ نے ظن کی بنیاد پر ایک بات کہی جس کا مطلب انھوں نے یہ سمجھا کہ آپ اس عمل سے منع فرما رہے ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے تلقیح (زرخیزی) کے اس عمل کو چھوڑ دیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سال کھجور کی فصل کم آئی اور جو آئی وہ بھی خراب تھی۔ آپ نے دریافت کیا کہ اس سال کھجور کی فصل خراب کیوں ہوئی۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارے تجربہ کے مطابق، اچھی فصل کا انحصار اسی عمل پر ہوتا ہے جو ہم کر رہے تھے اور آپ نے اس سے منع فرما دیا۔ پیغمبر اسلامﷺ نے یہ سن کر کہا کہ جو تم کر رہے تھے اس کو کرو کیونکہ تم اپنی دنیا کے معاملے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحيح مسلم، حدیث نمبر2363)۔
یہ ایک بے حد اہم رہنمائی تھی جو تاریخ میں پہلی بار پیغمبر اسلام نے جاری فرمائی۔ اس رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سائنسی ریسرچ اور فطرت کے رازوں کی دریافت کا وہ سلسلہ انسانوں کے درمیان کھلے طور پر جاری ہوگیا جو ہزاروں سال سے رکا ہوا تھا۔
قدیم زمانے میں علمی تحقیق کی حیثیت ایک آزادانہ شعبہ کی نہ تھی۔ اس زمانے میں علمی تحقیق کو مذہبی عقائد و رسوم کے تابع بنا دیا گیا تھا۔ کوئی علمی دریافت اسی وقت صحیح سمجھی جاتی تھی جب کہ وہ مروجہ عقائد و رسوم سے مطابقت رکھتی ہو، اگر وہ اس کے مطابق نہ ہو تو بلابحث اس کو رد کر دیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک علمی تحقیق کا کام اپنے ابتدائی مرحلہ میں رکا رہا۔ وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔
پیغمبر اسلامﷺ کے مذکورہ انقلابی اعلان کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور آیا۔ اب نہ صرف باغبانی اور زراعت بلکہ علوم فطرت کے ہر شعبہ میں آزادانہ تحقیق ہونے لگی۔ ہر علم بے روک ٹوک آگے بڑھنے لگا۔
یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس زمانے کے مسلمانوں نے زراعت و باغبانی کے نئے نئے طریقے دریافت کیے۔ انھوں نے صنعت و تعمیر کے میدان میں زبردست ترقی کی۔ جراحی سے لے کر جنگ تک ہر شعبہ میں نئے نئے آلات اور اوزار بنائے۔ آزادانہ تحقیق کی یہ لہر بڑھتی رہی یہاں تک کہ صدیوں کے عمل کے دوران وہ ساری دنیا میں پھیل گئی۔ یہی وہ تاریخی عمل ہے جو ترقی کرتے ہوئے اس نئے دور تک پہنچا ہے جس کو ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہتے ہیں۔
