ہندوستانی مسلمان
قرآن میں بیان کردہ مذکورہ قانون اور اس کی تاریخی تصدیق پر غور کیجئے تو ایک نہایت اہم حقیقت دریافت ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس حقیقت کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں سے ہے۔ موجودہ ہندوستانی مسلمان اس کا عین مصداق قرار پاتے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں ساری صورت حال اچانک بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ وہ قوم جس کا معاملہ آج بظاہر ایک المیہ کی صورت میں دکھائی دیتا ہے وہ اچانک ایک طربیہ نظر آنے لگتا ہے۔ ایک قوم جو آج بظاہر ملک کے لیے ایک بوجھ(liability) سمجھی جا رہی ہے، وہ ملک کے لیے ایک قیمتی اثاثہ (asset) کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ مزید یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ امید افزا حیثیت صرف ہندستان کے لیے نہیں ہے بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ ساری دنیا کے لیے ہے۔
آج کی دنیا کو گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو تمام قوموں میں صرف ہندوستانی مسلمان وہ گروہ ہیں جن کے حق میں مذکورہ تاریخی شرطیں پوری ہو رہی ہیں۔ وہ یہاں اقلیت میں ہیں مگر اتنی چھوٹی اقلیت نہیں کہ چیلنج کے مقابلے میں بے بس ہو کر رہ جائیں۔ اقلیت میں ہونے کی بنا پر ایک طرف انہیں اکثریت کے چیلنج کا سامنا ہے دوسری طرف ان کا ایک بڑی اقلیت ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ اکثریت کے مقابلے میں یکسر مغلوب ہو کر نہ رہ جائیں۔ اس صورت حال نے ہندستان کے مسلمانوں کو بہترین موافق پوزیشن(advantageous position) میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔
