انسان کی تلاش
انسانی تاریخ ایک مسلسل تلاش کا نام ہے۔ انسان کی تاریخ جتنی قدیم ہے اتنی ہی قدیم اس کی تلاش بھی ہے۔ مگر بے شمار علمی اور تمدنی ترقیوں کے باوجود ابھی تک انسان اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔ انسانیت کا قافلہ بدستور تلاش کے صحرا میں حیران و سرگرداں دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت کی یہ تلاش سب سے پہلے فلسفیوں نے باقاعدہ صورت میں شروع کی۔ ہزاروں بڑے بڑے دماغوں نے اپنی پوری زندگی اسی تلاش میں ختم کر دی۔ مگر وہ کسی قابل اعتماد جواب تک نہ پہنچ سکے۔ انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات 1970) نے بیسویں صدی کا اعلیٰ ترقی یافتہ زمانہ پایا۔ وہ تقریباً سو سال تک زندہ رہا۔ اس نے اپنی ساری عمر علوم کے مطالعہ میں گزار دی۔ اس کے باوجود وہ اس حال میں مرا کہ وہ دنیا کو کوئی فلسفۂ حیات نہ دے سکا۔ چنانچہ برٹرینڈ رسل کو بے فلسفہ فلسفی (Philosopher of no Philosophy) کہا جاتا ہے۔
تاہم یہ صرف برٹرینڈ رسل کی بات نہیں بلکہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے تمام فلسفیوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی فلسفی انسان کو اس کی تلاش کا کوئی واضح جواب نہ دے سکا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر پچھلے پانچ ہزار سال میں فلسفہ اپنی تلاش کا جواب پانے میں ناکام رہا ہے تو اگلے پانچ ہزار سال میں وہ اس کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ تلاش کی مدت کا نہیں ہے بلکہ تلاش کے معاملے میں فلسفہ کی نااہلی کا ہے۔
حقائق کی دنیا اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان اپنے محدود ذہن کے تحت اس کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔ ایک مغربی مفکر نے بجاطور پر کہا ہے کہ علم میں ہر اضافہ صرف اپنی بے علمی میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں:
We are Knowing more and more about less and less.
فلسفہ کے بعد اس معاملے میں دوسرا نام سائنس کا آتا ہے۔ مگر سائنس نے آغاز ہی میں اس معاملے میں اپنے عجز کا اعتراف کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس کی معروف ترقیاں تمام تر اسی اعترافِ عجز کا نتیجہ ہیں۔ فلسفہ یہ کوشش کررہا تھا کہ وہ چیزوں کا علم (Knowledge of things) اور سچائیوں کا علم (Knowledge of truths) دونوں کو بیک وقت دریافت کرے۔ مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا کہ سچائی کے علم تک پہنچنا انسان کے لیے اپنی ناکافی استعداد کی بنا پر ممکن ہی نہیں ۔ اسی بات کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے کہ ’’انسان کو صرف علم قلیل دیا گیا ہے‘‘۔ (بنی اسرائیل، 17:85)
چنانچہ عملی نقطۂ نظر کو اختیار کرتے ہوئے سائنس نے اپنی کوششوں کو صرف چیزوں کے علم تک محدود کر دیا۔ اس تقسیم کی بنا پر سائنس کو جزئی کامیابی تو ملی۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ حقیقت کی تلاش کے معاملے میں سائنس کوئی مفید علمی ذریعہ نہیں ہے اورنہ وہ کبھی اس کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
فلسفہ اور سائنس کے بعد دوسرا جو ذریعہ باقی رہتا ہے وہ مذہب ہے۔ فلسفہ اور سائنس کے برعکس، مذہب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے پاس حقیقت کا علم ہے اور لوگوں کو اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دنیا میں تقریباً ایک درجن بڑے مذاہب ہیں اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہے۔ مگر مسلمہ اصول کے مطابق ، کسی مذہب یا فکری نظام کو صرف دعویٰ کی بنیاد پر نہیں مانا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ مسلمہ علمی اصول پر ان کے دعویٰ کو جانچا جائے اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے۔
اب غور کیجیے کہ اس جانچ کا علمی اصول کیا ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذاہب کی واقعیت کو جانچنے کے لیے تین بنیادی اصول یہ ہو سکتے ہیں۔
1۔ زیر بحث مذہب کے حق میں تاریخی قرائن کیا ہیں۔ کیا تاریخ کے مسلمہ معیار پر اس کے وجود کی اعتباریت ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ صرف غیر ثابت شدہ مفروضات پر مبنی ہے یا وہ اپنے ساتھ کوئی حقیقی تاریخ رکھتا ہے۔
2۔ مذہب کے دائرہ سے باہر علوم کا جو ارتقاء ہوا ہے وہ اس کی تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے یا وہ اس کی تردید کر رہا ہے۔ ثابت شدہ علوم اس کے موافق ہیں یا اس کے خلاف۔
3۔ اس کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے لیے کیا ایسی کوئی اسکیم ہے جو ابدی طور پر قابل عمل ہو اور جس کی افادیت کا عملی ثبوت بھی موجود ہو۔
