مذہبِ امید
اسلام اُمید کا مذہب ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات اُمید اور حوصلہ کا سبق دیتی ہیں۔ بظاہر مشکل اور ناکامی اور محرومی جیسے حالات میں بھی اسلام انسان کو امید اور حوصلہ کا سبق دیتا ہے۔ وہ شام کے اندھیرے میں بھی صبح کی روشنی کی خوشخبری سناتا ہے۔ قرآن کی سورۃ النساء میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ: وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ (4:104)۔ یعنی، اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو اُمید وہ نہیں رکھتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص جو اسلامی فکر کا حامل ہو وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو تاریکی میں روشنی دیکھتا ہے ، جو وہاں بھی پرامید رہتا ہے جہاں دوسرے لوگ امید اور حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔
اس معاملے میں اسلام اس حد تک جاتا ہے کہ اسلام میں مایوسی کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ قرآن میں ایک پیغمبر کی زبان سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ: وَلَا تَايْـــــَٔـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ۭ اِنَّهٗ لَا يَايْـــــَٔـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْن (12:87)۔ یعنی، تم اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو، اللہ کی رحمت سے صرف منکر ہی نااُمید ہوتے ہیں۔ اس کے مطابق ، اہل اسلام کے لیے کسی بھی حال میں جائز نہیں کہ وہ مایوس ہو جائیں۔ حالات بظاہر خواہ کتنے ہی زیادہ غیر موافق ہوں مگر اہل ایمان پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ آخر وقت تک پراُمید بنے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں خودکشی کی موت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
