دونوں حالتوں میں صبر
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ عز وجل لِلمُؤْمِنِ :إِنِ أصَابَهُ خَيْرٌ، حَمِدَ رَبَّهُ وَشَكَرَ، وَإِنِ أصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، حَمِدَ رَبَّهُ وَصَبَرَ، الْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ (مسند احمد، حدیث نمبر1486)۔ یعنی، مومن کے معاملے میں اللہ کا فیصلہ کیسا عجیب ہے۔ اگر اس کو بھلائی پہنچتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اگر اس کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح مومن کو ہرچیز میں اجر ملتا رہتا ہے۔
مومن سے مراد وہ انسان ہے جس کا شعور پوری طرح بیدار ہو چکا ہو جس کی سوچ اس حد تک ترقی کر چکی ہو کہ وہ ہر پیش آنے والی صورت حال پر مثبت جواب (positive response) دے سکے۔ وہ قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے والا بن چکا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔
ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا کہ یہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظام کی بنا پر ممکن ہوا ہے۔ یہ چیز اس کو حقیقت پسند بناتی ہے اور اس کو نظام خدا وندی کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کو کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے تب بھی اس کا ترقی یافتہ شعور اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ اس کا ذہنی سکون نہ ٹوٹے۔ وہ فریاد یا شکایات کے بجائے صبر و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔
موجودہ دنیا میں یہ مزاج آدمی کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ ہمیشہ اعتدال پر قائم رہے۔ وہ ہر نہیں میں اپنے لیے ایک ہے کا راز دریافت کر لے۔ اس کی زندگی کبھی تعطل سے دوچار نہ ہو۔ اس کی امیدوں کا چراغ کبھی بجھنے نہ پائے، وہ اس کو ہمیشہ روشنی اور حرارت دیتا رہے۔
