دستور کی دفعہ 44
یہ ساری باتیں دستور کی دفعہ 44 کے حوالہ سے کہی جا رہی ہیں۔ یہ دفعہ دستور ہند کے چوتھے حصہ میں ہے۔ یہ حصہ اسٹیٹ پالیسی کے لیے رہنما اصول (directive principles) کی حیثیت سے دستور میں داخل کیا گیا ہے۔ اس کی دفعہ37 میں یہ صراحت ہے کہ اس حصہ میں جودفعات درج کی گئی ہیں وہ کسی بھی عدالت کے ذریعہ قابل نفاذ نہیں ہیں۔ اس کا تعلق تمام تر حکومت اور ریاست سے ہے۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کے ججوں کا بار بار دفعہ 44 کے حوالے سے یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ چھیڑنا ایک ایسے مسئلہ میں دخل دینا ہے جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ جنتا دل نے اس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے (دی پانیر 15 مئی 1995) کو اپنی حد سے گزر کر پارلیمنٹ کی حد میں داخل ہونا قرار دیا:
It is a judicial trespass on Parliament's jurisdiction.
اسی پس منظر میں دی ہندستان ٹائمس (12 مئی 1995) نے اپنے ایڈیٹوریل میں فیصلہ پر تبصرہ کا آغاز اس جملہ سے کیا تھا کہ— ہندستان کی سپریم کورٹ نے حالیہ برسوں میں بار بار رحجان ظاہر کیا ہے کہ وہ ایسے مقامات میں گھس پڑتی ہے، جہاں داخل ہونے سے فرشتے بھی گھبراتے ہیں:
India's Supreme Court in recent years has displayed a penchant for rushing into terrain that angels fear to tread.
خود دستور کے مطابق، یونیفارم سول کوڈ کو ایکٹ کی صورت دینے کا تعلق تمام تر حکومت سے ہے اور حکومت کا حال یہ ہے کہ1956 میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو (1889-1964) نے صاف طور پر کہا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں اس کو تکمیل تک پہنچاؤں:
I do not think that at the present moment the time is ripe in India for me to try to push it through.
یہی بات اس کے بعد اندرا گاندھی نے بھی کہی۔ اور اب موجودہ پرائم منسٹر پی وی نرسمہا راؤ (پیدائش 1921) نے بھی یہی بات کہہ دی ہے (ٹائمس آف انڈیا ، نئی دہلی ، 28 جولائی 1995، صفحہ7)۔ اب یہ بڑی عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو عملاً یونیفارم سول کوڈ لانا ہے وہ تو اس سے بے تعلقی ظاہر کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اختیار میں سرے سے اس کا معاملہ نہیں وہ اس کے حق میں پرجوش تقریریں کر رہے ہیں۔ اس قسم کی لفظی کارروائی صرف وقت کا ضیاع ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
