اعتماد و توکل
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تبلیغ کے تقریباً بارہ سال اسی شہر میں گزارے۔ اس زمانے میں مکہ پر مشرکوں کا غلبہ تھا۔ انہوں نے آپ کو سخت تکلیفیں پہنچائیں۔یہاں تک کہ آپ کو مار ڈالنے کے درپے ہوگئے۔ جب یہ نوبت آگئی تو آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔
اس وقت حالات اتنے سخت تھے کہ مکہ سے نکل کر سیدھے مدینہ جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس لیے آپ جب مکہ چھوڑ کر نکلے تو ابتداءً تین دن تک غار ثور میں مقیم رہے جو ایک دشوار گزار پہاڑ کے اوپر ایک تنگ مقام پر واقع تھا۔ تاہم آپ کے دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے وہاں بھی پہنچ گئے۔ آپ اپنے رفیق حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ غار میں تھے اور آپ کے دشمن تلواریں لیے ہوئے غار سے اتنے قریب کھڑے ہوئے تھے کہ آپ ان کے قدموں کو دیکھ سکتے تھے۔ تمام ظاہری قرائن کے مطابق ہلاکت آپ کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق کو یہ صورت حال دیکھ کر سخت تشویش ہوئی۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ تو یہاں بھی آگئے۔ آپ نے نہایت سکون کے ساتھ جواب دیا: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا (صحیح مسلم،حدیث نمبر2381)۔ یعنی، اے ابوبکر تمہارا ان دو کے بارے میں کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو۔
یہ فقرہ بلاشبہ تو کل و اعتماد کا انتہائی کامل نمونہ ہے۔ اس واقعہ میں انسان توکل کے اس آخری مقام پر نظر آتا ہے جس کے آگے اس اعلیٰ انسانی صفت کا کوئی درجہ نہیں۔
