یکساں سول کوڈ

یکساں سول کوڈ کا تصور آزادی (1947) کے پہلے سے ہندستان میں چلا آ رہا ہے۔ مگر اب وہ زیادہ تر دستور ہند کا مسئلہ بن گیا ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بعد ملک کا جو دستور بنا اس میں یونیفارم سول کوڈ کے نام سے اس کی بھی ایک باقاعدہ دفعہ شامل کر دی گئی۔ یہ دستور کی دفعہ 44 ہے جو اس کے رہنما اصولوں کے تحت درج کی گئی ہے۔

دستور: غیر ضروری طوالت

دستور ایک اعلیٰ قانونی دستاویز ہے۔ دستور کا مقصد ان بنیادی اصولوں کا تعین ہے جس کی روشنی میں قومی حکومت (یا کسی اجتماعی ادارہ) کو چلایا جا سکے۔ خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے دستور کو مختصر ہونا چاہیے۔ کیوں کہ دستور جتنا لمبا ہو گا اتنا ہی زیادہ اس میں اختلافات پیدا ہوں گے اور بار بار اس میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس طرح دستور کا احترام ختم ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ طوالت اور پیچیدگی کی بنا پر آخرکار ایسا ہو گا کہ صرف کچھ ماہرین دستور ہی اس کو جانیں گے۔ عام شہریوں کو اس سے کوئی واقفیت یا دل چسپی باقی نہ رہے گی۔

یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی شہرت کے ماہر دستوریات (constitutionalism) وِسکانِسن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ فلمین (David Fellman, 1907-2003) سے لے کر انڈیا کے سب سے بڑے ماہر دستور مسٹرنانی پالکھی والا (2002-1920) تک نے مختصر دستور کی حمایت کی ہے۔

موجودہ زمانے میں تمام ترقی یافتہ قوموں کے دستور نہایت مختصر ہیں۔ مثلاً غیر ترقی یافتہ ریاست جارجیا (Georgia) کا نظرثانی شدہ دستور پانچ لاکھ (500,000) الفاظ پر مشتمل ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ امریکہ (United States) کا دستور صرف سات ہزار الفاظ پر مبنی ہے۔ اسی طرح جاپان کا دستور انتہائی مختصر ہے جس کو موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ قوموں کے درمیان نمبر ایک قوم کی حیثیت حاصل ہے (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 5، صفحہ 86-85)۔

انڈیا کا دستور غالباً تمام قومی دستوروں میں سب سے زیادہ لمبا ہے۔ بارہ تفصیلی شیڈول (schedules) کے علاوہ اصل دستور 395 دفعات پر مشتمل ہے۔ جب کہ اکثر دفعات کی ذیلی دفعات بھی ہیں۔ اس لمبی دستور سازی کا نادرست ہونا اسی سے ثابت ہے کہ نومبر1949ء کے بعد سے اب تک اس میں تقریباً 80 ترمیمات ہو چکی ہیں اور مزید ترمیم کا مطالبہ جاری ہے۔ ان سب کے باوجود یہ ’’جامع‘‘ دستور ملک کو ترقی کے راستہ پر آگے لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

ڈاکٹر راجندر پرشاد انڈیا کی دستور ساز اسمبلی کے صدر (49-1946) تھے۔ یہ دستور اگرچہ انھیں کی زیر صدارت بنا اور اس کی تکمیل کے بعد انھوں نے 26 نومبر1949 کو اس پر اپنا دستخط کیا۔  تاہم لمبی دستور سازی کے خلاف تھے :

In his valedictory address to the constituent Assembly Dr Rajendra Prasad said that everything cannot be written in the Constitution and hoped for the development of healthy conventions. But these have not been developed and everything has to be written in the Constitution.

ڈاکٹر راجندر پرشاد نے دستورساز اسمبلی میں اپنا الوداعی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ دستور میں ہر چیز لکھی نہیں جا سکتی۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ صحت مند روایات قائم کی جائیں گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس، یہ ذہن بن گیا کہ ہر چیز کو دستور میں لکھ دیا جائے۔ (ہندستان ٹائمس 24 مئی1995)

کسی دستور کی غیر ضروری طوالت اس میں غیر ضروری دفعات کو شامل کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہندوستانی دستور میں اس قسم کی کثیر غیر ضروری دفعات شامل ہیں انھیں میں سے ایک ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں (directive principles) کی دفعہ 44 ہے جو مشترک سول کوڈ سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے گی کہ انڈیا کے تمام شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ حاصل ہو جائے:

The State shall endeavour to secure for the citizens a uniform civil code throughout the territory of India.

دستور کی یہ دفعہ اتنا ہی غیر دستوری ہے جتنا یہ کہنا کہ ریاست اس بات کی کوشش کرے کہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں فہرست طعام (uniform menu) وجود میں آ جائے۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ ملک کے تمام مرد و عورت اور بوڑھے اور بچے ایک ہی قسم کا کھانا کھائیں اور ایک ہی قسم کا لباس پہنیں۔ اسی طرح یہ بھی یقینی طور پر ممکن نہیں ہے کہ ایک بڑے ملک کے تمام مرد و عورت ایک ہی ڈھنگ پر شادی کی رسوم ادا کریں ، خواہ اس کے لیے باقاعدہ قانون کیوں نہ بنا دیا جائے۔

دستور کا کام قومی پالیسی کے بنیادی اصولوں کو متعین کرنا ہے نہ کہ نجی معاملات میں لوگوں کے انفرادی ذوق کو مٹا کر غیر ضروری طور پر یکسانیت لانے کی کوشش کرنا۔

تاہم جب کوئی چیز لکھ کر چھاپ دی جائے تو بہت سے لوگ اس کو واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ یہی حال دستور کی اس دفعہ کا بھی ہوا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس کا حوالہ دے کر مانگ کرتے رہتے ہیں کہ یکساں سول کوڈ کا دور لانے کے لیے پارلیمنٹ ایک قانون بنائے اور اس کو پورے ملک میں رائج کیا جائے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion