جبر کا خاتمہ اور آزادی کا آغاز
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں جبر کا نظام قائم تھا۔ ہر ملک میں نسلی بادشاہی کا رواج تھا۔ بادشاہ اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لیے جبر کی فضا کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ انسانی آزادی کے تصور کو فروغ دینے میں مستقل رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں ہر جگہ یہ ماحول قائم تھا کہ سوچنا حکمراں کا کام ہے، بقیہ لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ تابعداری کی زندگی پر قانع رہیں۔
علمی اور فکری ترقی ہمیشہ آزادی کے ماحول میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس جابرانہ نظام کے تحت انسان کا علمی اور فکری ارتقا بھی مسلسل رکا رہا۔ مثال کے طور پر رومن ایمپائر نے دنیا کے بڑے حصہ پر دو ہزار سال تک حکومت کی۔ اس کی سلطنت کا رقبہ یورپ، ایشیا، افریقہ کے بیشتر آباد حصہ پر پھیلا ہوا تھا۔ تاہم دو ہزار سال کی اس مدت میں کوئی بھی قابل ذکر علمی اور فکری ارتقاء ممکن نہ ہو سکا۔
اسلام نے اس جبری نظام کے خلاف تحریک شروع کی۔ یہ آواز وقت کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئی۔ چنانچہ پہلے ہی دور میں اہل اسلام کا مقابلہ اس زمانے کی دو سب سے بڑی سلطنتوں، رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر سے پیش آگیا۔ یہ مقابلہ اپنی آخری متشددانہ حد تک پہنچ گیا۔ اس مقابلے میں آخر کار اہل اسلام کی جیت ہوئی۔ اور یہ دونوں سلطنتیں اور اسی کے ساتھ ان کی حلیف حکومتیں ہمیشہ کے لیے صفحۂ سیاست سے مٹ گئیں۔ مورخین نے عام طور پر اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے اگر رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو توڑا نہ ہوتا تو انسانی تاریخ میں آزادی کا دور شاید کبھی نہ آتا۔
اسلام کا لایا ہوا آزادی کا یہ انقلاب بھی ایک تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں قوموں کے درمیان جاری رہا۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس پر مختلف نشیب و فراز آتے رہے۔ لیکن کوئی بھی چیز اس عمل کو روک نہ سکی۔ انسانی آزادی کا یہ دھارا مسلسل آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب مختلف اسباب کے تحت انسانی آزادی ایک ایسا مسلم اجتماعی اصول ہے جس کی تردید کسی کے لیے ممکن نہیں۔
