انقلاب کا نمونہ قائم کرنا
انقلاب (revolution) کا لفظ اہل فکر کے لیے ایک بے حد پسندیدہ مقصود (cherished goal) رہا ہے۔ مگر معلوم تاریخ میں یہ مقصد پورے معنوں میں صرف ایک بار حاصل کیا جا سکتا۔ یہ پیغمبر اسلامﷺ کا لایا ہوا انقلاب تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ موجودہ زمانے میں بہت سے واقعات کو انقلاب (ریولیوشن) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ تمام واقعات اپنی حقیقت کے اعتبار سے کُوۡ (coup) تھے، نہ کہ کوئی ریولیوشن۔ ان تمام واقعات میں جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ لمبے خونی مرحلہ کے بعد ایک حکمراں گروہ ہٹا دیا گیا اور دوسرے حکمراں گروہ کو اس کی جگہ پر بٹھا دیا گیا۔ جب کہ ریولیوشن ایک ایسے عمومی واقعہ کا نام ہے جس میں اخلاقی، معاشی، سماجی، غرض، زندگی کے ہر دائرہ میں نئی صالح تبدیلی وقوع میں آجائے۔ اور ایسا پوری انسانی تاریخ میں صرف ایک بار اسلامی انقلاب کی صورت میں پیش آیا۔
انقلابی تحریکوں کی لمبی ناکام تاریخ میں اسلام کا یہ تجربہ روشنی کے ایک بلند مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل کے بعد پہلی بار ایک ایسا سماج وجود میں آیا جو ایسے افراد پر مشتمل تھا جن کے کیریکٹر پر اعتماد کیا جا سکتا تھا۔ جس میں معاشی استحصال کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ جہاں ہر انسان ہر قسم کے فرق کے باوجود برابری کے ماحول میں رہ سکتا تھا۔ جس میں انسانی تعلقات کی بنیاد استحصال (exploitation) کے بجائے برادرانہ تعاون پر قائم کی گئی تھی۔ جہاں سیاسی حکمراں عام انسانوں کی طرح رہتے تھے نہ کہ لوگوں کے آقا کی طرح، جہاں ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ عدالت سے انصاف حاصل کر سکتا ہے۔
اس کامیاب عملی مثال کے ذریعہ اسلام ساری انسانیت کو ایک ایسا حقیقی نمونہ دے رہا ہے جس کی پیروی کرکے وہ بہتر دنیا کے بارے میں اپنے خواب کی تکمیل کر سکے۔ اسلامی انقلاب ایک اعتبار سے ماضی کی تاریخ کا ایک واقعہ ہے، اور دوسرے اعتبار سے حال اور مستقبل کی تعمیر کاایک پروگرام۔
اسلام کا رول انسانی تاریخ میں صرف یہ نہیں ہے کہ اس نے زندگی کے لیے ایک صحیح اور قابل اعتماد آئیڈیالوجی انسان کو دی۔ اسی کے ساتھ انسانیت کے لیے اسلام کا ایک عطیہ یہ بھی ہے کہ اس نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے ایک عملی نمونہ قائم کیا۔ اس طرح اسلام کے ذریعے انسانوں کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اعلیٰ انسانی آئیڈیل ایک خیالی آئیڈیل نہیں۔ وہ ایک ایسا آئیڈیل ہے جو پوری طرح قابل عمل ہے۔ اور ہماری معلوم تاریخ کے اندر وہ عملی طور پر پوری طرح قائم بھی ہو چکا ہے۔ اسلام نظری سچائی بھی ہے، اور اسی کے ساتھ ایک قائم شدہ عملی نظام بھی۔
