یکساں کوڈ یکسانیت کا ذریعہ نہیں
یکساں کوڈ کا کوئی بھی تعلق یکسانیت یا باہمی اتحاد سے نہیں۔ ایک ہی سول کوڈ کو اپنانے والے بار بار آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ، قدیم ہندستان میں کورو اور پانڈو دو رشتہ دار خاندان تھے، دونوں کا سول کوڈ ایک تھا۔ اس کے باوجود دونوں میں وہ عظیم جنگ ہوئی جس کو مہابھارت کہا جاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ دہلی کی حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے اگلے الیکشن میں وہ قاتلانہ جبلت (killer instinct) کے ساتھ مہا بھارت برپا کرے گی (ٹائمس آف انڈیا 24 جولائی 1995) اس نئی مہا بھارت کے دونوں فریق دوبارہ وہی لوگ ہیں جن کا سول کوڈ بالکل یکساں ہے۔
پہلی عالمی جنگ (18-1914) میں ایک طرف جرمنی اور اٹلی وغیرہ تھے، اور دوسری طرف برطانیہ اور فرانس وغیرہ۔ دونوں گروہوں میں ہلاکت خیز جنگ ہوئی۔ حتیٰ کہ مرنے اور شدید طور پر زخمی ہونے والوں کی تعداد 30ملین تک پہنچ گئی۔ یہ دونوں جنگ آزما فریق عیسائی تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے یہاں وہی سول کوڈ رائج تھا جو دوسرے کے یہاں رائج تھا۔ مگر یہ قانونی یکسانیت دونوں کو آپس میں لڑنے سے روکنے والی ثابت نہیں ہوئی۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ (1949-1939) میں ایک فریق کا قائد جرمنی تھا، اور دوسرے فریق کا قائد برطانیہ۔ دونوں کا کلچر اور سول کوڈ ایک تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے ایک دوسرے کے خلاف تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ لڑی ۔ دونوں کا ’’یکساں سول کوڈ‘‘ کو ماننا انھیں باہمی جنگ سے روکنے والا نہ بن سکا۔
سابق وزیر اعظم ہند اندرا گاندھی کو 1984 میں کچھ لوگوں نے مار ڈالا، جبکہ قاتل اورمقتول دونوں کا سول کوڈ ایک تھا ۔ پنجاب میں علیحدگی کی خونین لڑائی جن دو فریقوں کے درمیان جاری ہوئی وہ دونوں ایک ہی سول کوڈ کو ماننے والے تھے۔ ہر دن اخبار میں شوہروں اور بیویوں کے درمیان ظالمانہ سلوک کے واقعات چھپتے رہتے ہیں، جبکہ دونوں کے دونوں ایک ہی سول قانون سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ عدالتوں میں کروڑوں ہندوستانی ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات لگا کر قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں، حالاں کہ بیشتر حالت میں دونوں فریقوں کا سول کوڈ ایک ہی ہوتا ہے۔ وغیرہ
حقیقت یہ ہے کہ ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کے لیے یکساں سول کوڈ کا بے فائدہ ہونا آج ہی معلوم اور ثابت شدہ ہے۔ کوئی نیا قانون بنا کر ازسرنو اس کا مزید تجربہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
