اسلام اور کنور زن

اسلام کنور زن کی حمایت کرتا ہے۔ مگر اسلام کے نزدیک کنورزن رسمی مفہوم میں محض تبدیلیِمذہب (proselytism) کے ہم معنی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ذہنی انقلاب (intellectual revolution) یا روحانی تغیر (spiritual transformation) کے نتیجہ میں ایک شخص کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ یہ سادہ طور پر ایک مذہبی ڈھانچہ سے نکل کر دوسرے مذہبی ڈھانچہ میں جانا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی نے اپنی تلاش و تحقیق کے ذریعہ سچائی کو دریافت کیا۔ اور پھر اپنے ذاتی فیصلے کے تحت ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کر لیا۔

پیغمبر اسلامﷺ نے 6ھ کے آخر میں اس زمانے کے پڑوسی حکمرانوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے تھے۔ ان خطوط میں ان کو اسلام قبول کرنے کی براہ راست طور پر دعوت دی گئی تھی۔ مثال کے طور پر آپ نے بازنطینی حکمراں ہرقل (Heraclius-1) کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیا تو اس میں یہ الفاظ لکھے: ’’أَسْلِمْ ‌تَسْلَمْ‘‘ (صحيح البخاري،حدیث  نمبر7)۔ یعنی، اسلام لاؤ تم سلامتی پاؤ گے۔ اسی طرح مکہ میں جہاں کہیں لوگوں کا مجمع ہوتا وہاں جا کر آپ فرماتے: ’’ يَا ‌أَ يُّهَا ‌النَّاسُ، ‌قُولُوا:‌لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللهُ، ‌تُفْلِحُوا ‘‘(مسند احمد، حدیث نمبر 23191)۔یعنی، اے لوگو! کہو کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ، تم فلاح پاؤ گے۔

یہ بظاہر لوگوں کو مذہب بدلنے کی دعوت تھی۔ مگر قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقیقتاتبدیلیٔ فکر کی دعوت تھی نہ کہ سادہ طور پر محض مذہب بدل لینے کی۔ اسلام کے دور اول میں عرب کے کچھ دیہاتی لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے جب کہ ان کے اندر گہرے قسم کی کرداری تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ان کے بارے میں قرآن میں یہ سخت آیت اتری۔ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے ، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطاعت قبول کی ، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (49:14)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں کنورزن کا مطلب ایک انسان کی پوری زندگی کی تبدیلی ہے، نہ کہ معروف معنوں میں صرف مذہب کی تبدیلی۔

اسی طرح قرآن میں یہود و نصاریٰ کے طریقہ پر نقد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:کہو کہ ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کیا۔ اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں (2:138)۔ یہود و نصاریٰ کے یہاں مذہب بدلنے کاایک رسمی طریقہ رائج تھا جس کو اصطباغ یا بپتسمہ (baptism) کہا جاتا ہے۔ اس رسم میں آدمی کو پانی میں غوطہ دیا جاتا تھا۔ وہ پانی کے رنگ کو پاکی کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھاکہ مذہبی پیشوا کے ذریعہ صاف پانی میں غوطہ دینے سے ایک ناپاک آدمی پاک ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ نئے مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کہا گیا کہ جسم کے اوپر ظاہری طور پر پانی ڈالنے سے کوئی شخص پاک نہیں ہوتا۔ پاکی یہ ہے کہ آدمی کی پوری شخصیت بدل جائے ، اس کے اندر اللہ کا رنگ داخل ہو جائے ، وہ اپنے قول و عمل میں پوری طرح خدائی طریقہ کو اختیار کر لے۔

اس معاملے میں قرآن یہاں تک جاتاہے کہ وہ رسمی تبدیلیِمذہب کی سرے سے تصدیق ہی نہیں کرتا۔ قدیم مدینہ میں تقریباً تین سو آدمی ایسے تھے جو اسلام کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے تھے۔ وہ بظاہر نماز روزہ بھی کرتے تھے مگر یہ سب کچھ انھوں نے اوپری طور پر یا منافقانہ طور پر کیا تھا۔ ان کی اندرونی حالت ان کے ظاہری اقرار کے موافق نہیں تھی۔ وہ زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے مگر قلبی کیفیت کے اعتبار سے ان کے اندر اسلام کی اسپرٹ موجود نہ تھی۔ ایسے لوگوں کے اسلام کو قرآن میں جھوٹا اسلام کہا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ : جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور اللہ جانتا ہے کہ بیشک تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں (63:1)۔

قرآن کے مطابق تبدیلیِ مذہب سے مراد کیا ہے۔ اس کا اندازہ چند آیتوں کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ایک واقعہ کا ذکر ہے جب کہ تقریباً ستر عیسائیوں کے ایک مجمع میں قرآن کی آیتیں پڑھی گئیں۔ اس کو سن کر وہ لوگ تڑپ اٹھے اور اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: اور جب انھوں نے اس کلام کو سنا جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے (5:83-84)۔

اسی طرح قرآن میں ایمان لانے والوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت ہیں اور ان کے لیے عزت کی روزی ہے (8:2-4)۔

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے نزدیک تبدیلیِ مذہب حقیقت میں وہ ہے، جو معرفت (realisation) کے نتیجہ میں پیش آئی ہو، جب کہ ایک انسان کی تلاش حق اپنی تلاش کا قابلِ یقین جواب پا لے۔ یہ پانا اس کے لیے اتنا گہرا تجربہ ہو کہ اس کا دل تڑپ اٹھے۔ اس کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں۔ اس کا پورا وجود اس سچائی کے رنگ میں ڈھل جائے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا اور بالکل مختلف انسان بن جائے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں کنورزن کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ کنورزن کے معاملے کو بتانے کے لیے دوسرے زیادہ بامعنی الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن جس دعوتی مشن کے تحت اُتارا گیا ہے اس کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اورایک ظاہر کرنے والی کتاب آچکی ہے۔ اس کے ذریعہ سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لا رہا ہے اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے (5:15-16)۔

اسی طرح جو لوگ قرآن کے مطالعہ سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوتے ہیں ان کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے: جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے اُتارا گیا ہے وہ حق ہے، کیا وہ اس کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت تو عقل والے لوگ ہی قبول کرتے ہیں (13:19)۔ اس آیت کے مطابق ، حقیقی کنورزن وہ ہے جو علم کی سطح پر واقع ہو، جس میں آدمی یہ محسو س کرتا ہو کہ وہ نہ جاننے کے مرحلہ سے نکل کر جاننے کے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ اسی لیے حدیث میں داخلۂ اسلام سے پہلے کے دور کو ’’جاہلیت‘‘ کہا گیا ہے، یعنی بے خبری کا دور۔

اسی طرح قرآن میں مومن اور غیر مومن کے فرق کو موت کے بعد زندگی پانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ: کیا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے ، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے ، اس سے نکلنے والا نہیں (6:122)۔

اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ زمین کی تمثیل کے ذریعہ اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زرخیز زمین ہری بھری فصل سے لہلہا اُٹھتی ہے۔ اسی طرح جن افراد کے دلوں میں استعداد ہے وہ سچائی کو پا کر جاگ اُٹھتے ہیں۔ ارشاد ہوا ہے: اور جو زمین اچھی ہے اس کی پیداوار نکلتی ہے اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہے اس کی پیداوار صرف ناقص نکلتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیاں مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان کے لیے جو شکر والے ہیں (7:58)۔

اس بات کو قرآن میں ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے۔ اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ وقت پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔ اور کلمۂ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہ ہو۔ اللہ ایمان والوں کو ایک پکی بات سے دنیا اور آخرت میں مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (14:24-27)۔

قرآن کی ان آیتوں میں اس فرق کو بتایا گیا ہے جو سچائی کو پائے ہوئے انسان اور سچائی کو نہ پائے ہوئے انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ جو آدمی سچائی کو نہ پائے وہ گویا ایک ایسی جھاڑی کی مانند ہے جو زمین کے اوپر اگ آتی ہو۔ ایسی جھاڑی کچھ دن تک بے فائدہ طور پر زمین کے اُوپر رہتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ یا تو خود مٹ جاتی ہے یا اکھاڑ کر پھینک دی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، ایک مفید اور پھل دار درخت زمین کے اُوپر اس طرح اگتا ہے جیسے کہ وہ زمین کے لیے ہے اور زمین اس کے لیے۔ وہ زمین اور فضا سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہوئے خوب ترقی کرتا ہے۔ اس سے لوگوں کو ہر قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ وہ زمین پر ایک مطلوب اور بامعنی وجود کے طور پر کھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion