سچائی کا یقین
موجودہ دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہو کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے اس کے حق ہونے پر اسے کوئی شبہ نہ ہو۔ اس قسم کا یقین آدمی کی لازمی ضرورت ہے۔ یہی یقین آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان معتدل طور پر رہے۔ اس کو ذہنی سکون حاصل ہو۔ وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے اور دن کو اعتدال کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے۔ اسلام آدمی کو یقین کی یہی نعمت عطا کرتا ہے۔
ایک پہاڑ یا ایک جانور کی یہ ضرورت نہیں کہ وہ دنیا میں اپنے وجود کا جواز تلاش کرے۔ مگر انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ یہ جانے کہ وہ کیا ہے اور وہ کس مقصد کے تحت دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں زندگی کا نظریہ (آئیڈیالوجی) کہا جا سکتا ہے۔
فلسفہ اس نظریۂ حیات کی تلاش کا علم ہے۔ مگر پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت کی تلاش کے باوجود ابھی تک فلسفہ اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔ فلسفہ اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ کر انسان کو صرف تشکیک اور بے یقینیت دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ فلسفہ کے بعد سائنس کا درجہ آتا ہے مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا ہے کہ وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دے سکتی ہے، کلی حقیقت تک پہنچنا سائنس کے لیے ممکن ہی نہیں۔
گویا سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ مقابلے کے میدان میں اترنے کی سرے سے اہل نہیں۔ اب آخری چیز جس سے اس معاملے میں رجوع کیا جائے وہ مذہب ہے۔ یہاں بھی منظر زیادہ مختلف نہیں۔ بظاہر دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب پائے جاتے ہیں۔ مگر اسلام کے سوا تمام مذاہب کی حالت بلااستثناء یہ ہے کہ ان کو نہ علمی تائید حاصل ہے اور نہ تاریخی اعتباریت۔ ان مذاہب کی مقدس کتابیں تحریف کی بنا پر صحیح باتوں کے ساتھ غلط باتوں کا مجموعہ بن گئی ہیں۔
اسی طرح ان کے تاریخی حالات اتنے کم معلوم ہیں کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے ان کی سچائی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح یہ تمام مذاہب بھی عملی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ انسان کو وہ سچائی دے سکیں جس پر وہ کامل یقین کے ساتھ قائم ہو جائے۔
افکار کے اس جنگل میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نہ صرف کامل سچائی کا حامل ہے بلکہ واقعاتی اعتبار سے وہ ایک ایسا مذہب ہے جس کی تاریخی اعتباریت میں کوئی شبہ نہیں۔
اسلام انسان کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو غیر مشتبہ سچائی کا حامل ہے۔ جو کلی صداقت کا سرمایہ اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے۔ جو اپنی تاریخی نوعیت کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ انسان اس یقین کے ساتھ اس کو اختیار کر سکے کہ اس نے اس سچائی کو پا لیا ہے جس کی تلاش اس کی فطرت میں پیشگی طور پر موجود تھی۔
اسلام ایک متلاشی روح کا حقیقی جواب ہے۔ وہ انسان کی شخصیت کی تکمیل ہے۔ وہ انسان کو وہ غیرمتزلزل یقین دیتا ہے جس کے سہارے وہ دنیا میں زندہ رہ سکے۔ اسلام آدمی کی قبل از موت زندگی کو بھی بامعنی بناتا ہے اور اس کی بعد از موت زندگی کو بھی۔
