معبود کی یکتائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات63 سال کی عمر میں مدینہ میں ہوئی۔ اس وقت لوگوں کے اوپر عجیب دیوانگی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ بہت سے لوگوں کو یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ آپ کا انتقال ہو سکتا ہے یا انتقال ہوگیا ہے۔ حضرت عمر فاروق اس معاملے میں سب سے آگے تھے۔ وہ مدینہ کی مسجد نبویؐ میں تلوار لے کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ جو شخص کہے گا کہ رسول اللہ کی وفات ہوگئی ہے میں اس تلوار سے اس کی گردن مار دوں گا۔
مسجد نبوی میں زبردست خلفشار جاری تھا۔ لوگ سخت مبہوت نظر آ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق وہاں آئے۔ انھوں نے صورت حال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مسجد کی طرف تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہا: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ (صحيح البخاري ،حدیث نمبر3467)۔یعنی، جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہوگیا اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے۔ اس پر کبھی موت آنے والی نہیں۔
اس واقعہ میں انسان معرفت الٰہی کے آخری درجہ پر نظر آتا ہے۔ انسان انسان ہے اور خدا خدا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا ہی اصل علم ہے۔ اور یہ واقعہ اس اصل علم کی آخری شاندار مثال ہے۔
