حضرت یوسف کی مثال
عملی حالات کا تعلق مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ ہر قسم کے حالات کسی ایک پیغمبر پر نہیں گزرتے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی پیغمبر کی زندگی میں ہر قسم کے حالات کے لیے نمونہ موجود ہو۔ اس سلسلے میں یہاں ایک مثال نقل کی جاتی ہے۔
موجودہ زمانے میں حکومت کا ایک نیا نظام رائج ہوا ہے جو پچھلے زمانوں میں موجود نہ تھا۔ اس نظام کو ڈیموکریسی کہا جاتا ہے۔ ڈیموکریسی کانظام قدیم زمانے کی بادشاہت سے بالکل مختلف ہے۔ قدیم بادشاہت میں صرف ایک شخص کو مطلق حاکم کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔ لیکن موجودہ ڈیموکریسی پورے سماج کے مشترک اقتدار کے اصول پر مبنی ہے۔ ڈیموکریسی کے نظام کو ایک لفظ میں اشتراک اقتدار کا نظام (power-sharing system) کہا جا سکتا ہے۔
موجودہ زمانے میں دنیا کے بہت سے ملکوں میں ڈیموکریسی کانظام رائج ہے۔ ان ملکوں میں مسلمان بھی ایک اقلیتی گروہ کے طور پر رہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان ملکوں کے مسلمان کیا کریں۔ اگر وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں اس نوعیت کا کوئی نمونہ تلاش کریں تو یہاں ان کو اس کا کوئی عملی نمونہ نہیں ملے گا جس سے وہ اس معاملے میں واضح سیاسی رہنمائی حاصل کر سکیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں عملی طور پر دو حالتوں کے نمونے ملتے ہیں۔ ایک مکی دور کا نمونہ ، جہاں آپ صرف داعی کی حیثیت میں کام کرتے رہے اور دوسرا مدنی دور کا نمونہ، جہاں آپ کو حاکم کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ سیاسی اقتدار میں اشتراک کے لیے کوئی واضح نمونہ نہ آپ کے مکی دور میں ہے اورنہ آپ کے مدنی دورمیں۔
قرآن کے مذکورہ حکم (الانعام، 6:90) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس معاملے میں ہم کو ایک واضح رہنمائی مل جائے گی۔ یہ رہنمائی حضرت یوسف کی زندگی میں ہے۔ حضرت یوسف ثابت شدہ طور پر خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ مصر میں آپ کے ساتھ کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہاں کے ہم عصر غیر مسلم حکمراں اپوفیس (Apophis) نے آپ کو ایک بڑے سرکاری عہدہ کی پیش کش کی۔
یہ عہدہ بظاہر وزارت زراعت کا عہدہ تھا۔ مگر یہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ اس زمانے کی اقتصادیات کا انحصار زیادہ تر زراعت پر تھا۔ زندگی کے تمام معاملات براہ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت سے جڑے ہوئے تھے اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ اس زمانے کے وزیر زراعت کی حیثیت عملی طور پرتقریباً وہی تھی جو موجودہ زمانے میں وزیر اعظم کی ہوتی ہے۔ چنانچہ جب مذکورہ مصری بادشاہ نے حضرت یوسف کو اس عہدہ کی پیش کش کی تو بائبل کی روایت کے مطابق اس نے حضرت یوسف سے کہا ’’سو تو میرے گھر کامختار ہو گا اور میری ساری رعایا تیرے حکموں پر چلے گی۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہوں گا‘‘ (پیدائش، 41:40)۔
ڈھانچہ کے فرق کے ساتھ، یہ صورت عملی طور پر تقریباً وہی تھی جس کو ہم نے اشتراکِ اقتدار (power-sharing) کا نام دیا ہے۔ قرآن اور بائبل کے مطابق ، حضرت یوسف نے بادشاہ کی پیش کش کو منظور کر لیا۔ بادشاہ کو قانونی صدر مملکت مانتے ہوئے وہ اس کی حکومت میں شامل ہو گئے۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار میں شرکت کا اصول ایک ایسا اصول ہے جس کی اصولی تصدیق پیغمبر کے اسوہ سے ہوتی ہے۔
اس نظیر کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ موجودہ زمانے کی ڈیموکریسی کے نظام میں شرکت اصولی طور پر بالکل جائز ہے، وہ کسی بھی درجہ میں اسلام کے خلاف نہیں۔ اگر مسلمان کسی ملک میں ڈیموکریسی کے حالات پائیں تو انہیں اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں شرکت کرنی چاہیے۔ ایسے نظام میں ان کی شرکت پیغمبرانہ اسوہ کے مطابق ہو گی نہ کہ اس کے خلاف۔
سیاست کا معاملہ ا یک اجتماعی اور سماجی معاملہ ہے۔ ایسے معاملے میں بعض اوقات قابل عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ سماج کے مختلف عناصر کی مجموعی رعایت کی جائے۔ ڈیموکریسی اسی قسم کاایک عملی نظام ہے اور حضرت یوسف کا نمونہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اگر حالات کے اعتبار سے ایسے نظام میں شرکت کریں تو ان کاایسا کرنا شرعی طور پر جائز ہو گا۔
