خدا کائنات کا نور

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (24:35)۔ یعنی، اس پوری کائنات میں جہاں بھی کوئی روشنی ہے وہ خدا کی ذات سے ہے۔ خدا اگر روشنی نہ دے تو کہیں اور سے کسی کو بھی روشنی ملنے والی نہیں۔

سورج اگر نہ ہو تو زمین پر ہر طرف اندھیر اچھا جائے۔ اسی طرح اگر ستارے نہ ہوں تو ساری کائنات گہری تاریکی میں ڈوب جائے۔ خدا نے ساری کائنات میں بے شمار تعداد میں انتہائی روشن قسم کے متحرک اجسام پھیلا دیے ہیں جو کائنات کے ہر حصہ کو مسلسل طور پر روشنی کا تحفہ دے رہے ہیں۔ اگر یہ کائناتی انتظام نہ ہو تو دنیا اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تاریکی کا ایک بھیانک غار بن جائے گی۔

یہ مادی روشنی کا معاملہ ہے۔ یہی معاملہ فکری اور روحانی روشنی کا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والے ہر انسان کو ضرورت ہے کہ اس کے ذہن کو وہ رہنمائی ملے جس کی روشنی میں وہ صحیح طور پر سوچے اور اس کو وہ روحانی خوراک ملے جو اس کے سینہ میں حکمت حیات کا باغ اُگا دے۔ اس فکری اور روحانی روشنی کا سرچشمہ بھی صرف اور صرف خدا وند ذوالجلال ہے۔ یہ روحانی روشنی بھی ایک خدا کے سوا کہیں اور سے انسان کو ملنے والی نہیں۔

آدمی جب خدائے واحد پر سچا یقین کرتا ہے تو نفسیاتی سطح پر خدا سے اس کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد روحانی تاروں پر اس کی پوری ہستی جگمگا اُٹھتی ہے۔ وہ اپنی یادوں میں خدا کو پانے لگتا ہے۔ وہ اپنے آنسوؤں میں خدا کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات میں خدا اس طرح بس جاتا ہے جیسے وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہو، جیسے کہ وہ خدا کے رحمت بھرے سایہ میں زندگی گزارنے لگا ہو۔

قرآن میں شرک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے (31:13)۔ ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر جگہ پر رکھ دینا (وَضْعُ الشّییِ فِیْ غَیْرِ مَوْضِعِہِ)۔ یعنی شرک (خدا کے ساتھ کسی اورکو شریک کرنا) اس کائنات میں سراسر اجنبی ہے۔ اس دنیا میں شرک کا عقیدہ رکھنے یا مشرکانہ فعل کرنے کے لیے کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔

اس دنیا کا خالق ایک ہی خدا ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ وہی اس کو سنبھالنے والا ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے سوا کسی اور کو خدا مانے یا کسی اور کو خدا کی خدائی میں شریک کرے اس نے ایک خود ساختہ مفروضہ کو واقعی حقیقت کا درجہ دیا۔ اس نے ایک ایسی چیز کو موجود فرض کیا جس کا اس دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔

مشرکانہ طرز فکر تمام برائیوں میں سب سے بڑی بُرائی ہے۔ جس آدمی کا ذہن مشرکانہ طرز پر سوچے ، جس آدمی کے دل میں مشرکانہ خیالات پرورش پائیں، وہ ایک بے حقیقت چیز کو اختیار کرتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی تردید کرتی ہے۔

شرک کا عقیدہ یا نظریہ آدمی کو فکری غذا دینے والا نہیں۔ وہ اس کو اس روحانی روشنی سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion