اسلام کی تعلیم

 پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیم بھی وہی ہے جو دوسرے پیغمبروں اور حضرت مسیح کی تعلیم تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو عرب کے باہر مختلف ملکوں میں بھیجا تاکہ وہ حاکموں اور سرداروں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اس وقت آپ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا تھا اس کا ایک حصہ یہ تھاکہ عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کی دعوت دی تھی جس کی دعوت میں تم کو دے رہا ہوں: دَعَا هُمْ إِلَى الَّذِي دَعَوْتُكُمْ إِلَيْهِ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 606)۔

قرآن (21:107) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام ﷺ کو دنیاوالوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے (وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ)۔ اسی طرح قرآن (3:159) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے دل میں خصوصی طور پر سختی کے بجائے نرمی کا مادہ رکھ دیا (فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ)۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ اللہ سے عافیت مانگو: يَا أَ يُّهَا النَّاسُ، ‌لَا ‌تَتَمَنَّوْا ‌لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ (صحيح مسلم، حدیث نمبر1742)۔

اسلامی طریق عمل کو اگر ایک نام دینا ہو تو اس کو پرامن عمل (peaceful activism) کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں آیا ہے کہ:وَالصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی، نزاع کے وقت ٹکراؤ کے بجائے صلح کا طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لَا يُعْطِي ‌عَلَى ‌الْعُنْفِ (سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر4807)۔ یعنی، اللہ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔ اور وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔

قرآن میں ایک مقام پر فطرت کا ایک اصول اس طرح بیان کیا گیا ہے:اور اس سے بہتر کس کی بات ہو گی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے (41:33-35)۔

اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر حق کی طلب فطری طور پر رکھ دی ہے۔ کوئی شخص یا کوئی گروہ اگر حق کے داعیوں کا دشمن بن جائے تو یہ اس کی مصنوعی حالت ہو گی نہ کہ اس کی حقیقی حالت۔ امکانی طور پر وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح حق کا طالب ہو گا اگرچہ بظاہر یہ دکھائی دے رہا ہو گا کہ وہ حق کا دشمن ہے۔ ایسی حالت میں حق کے داعیوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مخالفانہ روش کو نظرانداز کر کے ان سے اعتدال کے ساتھ معاملہ کریں ، وہ محبت اور خیر خواہی کے ساتھ ان کو حق کا پیغام پہنچاتے رہیں۔ اس کے بعد یقینی ہے کہ وہ حق کو قبول کر لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ظاہری عناد کا پردہ ہٹا دیا جائے۔ اور پردہ ہٹانے کا یہ کام صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ جوابی عناد کا معاملہ نہ کیا جائے بلکہ یک طرفہ محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔

پیغمبروں کا طریقہ دشمن کو دوست بنانا ہے نہ کہ دشمن کو دشمن قرار دے کر اس سے کٹ جانا۔ یہی ہمیشہ ہر پیغمبر کی تعلیم رہی ہے۔ اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اس معاملے کی صرف اصولی تعلیم نہیں دی بلکہ آپ کی پوری زندگی اس بات کی عملی مثال بن گئی کہ اچھا سلوک کس طرح مخالفین کو بدل دیتا ہے اور دشمنوں کو اپنا دوست بنا لیتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion