قابلِ عمل نہیں
حقیقت یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ ایک ناقابل عمل خواب ہے، اس کا داخلی ثبوت خود دستور ہند کے اندر موجود ہے۔ اس کی ایک مثال وہ ہے جو دستور کی دفعہ44 اور371۔ اے کے تقابل کے ذریعہ سامنے آتی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، دستور کی دفعہ44 میں مقرر کیا گیا ہے کہ ملک کے تمام باشندوں کے لیے بلااستثناء ایک ہی یونیفارم سول کوڈ بنایا جائے۔ مگر اسی دستور کی ترمیمی دفعہ 371 -اے کہتی ہے کہ ناگالینڈ میں ناگاؤں کے درمیان جو مذہبی اور سماجی قاعدے رائج ہیں اور ان کے یہاں جو مختلف روایتی قوانین ہیں، ان کے بارے میں پارلیمنٹ کوئی قانون نہیں بنائےگی۔ ریاست ناگالینڈ میں وہ بدستور قابل نفاذ رہیں گے۔ اِلّایہ کہ خود ناگالینڈ کی اسمبلی ان کے بارے میں ایک تجویز کے ذریعہ ایسا طے کرے:
No Act of Parliament in respect of (Naga customary laws) shall apply to State of Nagaland unless the Legislative Assembly of Nagaland by a resolution so decides (371-A).
ظاہر ہے کہ ان دونوں دفعات میں تضاد ہے۔ یہ تضاد اسی لیے ہے کہ ہمارے دستورسازوں نے بزعم خود جامع دستور بنانے کے لیے محض تخیل کے زور پر اس میں مختلف چیزیں اکٹھا کر دیں جو حقیقت کی دنیا میں کبھی اکٹھا ہونے والی نہ تھیں۔ غالباً اسی لیے دستور ساز اسمبلی کے ایک سینئر ممبر سرالادی کرشنا سوامی آ ئر نے دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مستقبل کا قانون ساز ادارہ ہو سکتا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ بنانے کی کوشش کرے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سرے سے اس کی کوشش ہی نہ کرے:
The future Legislatures may attempt a uniform civil code or they may not. (Sir Alladi Krishnaswami Aayyar)
