عقیدہ اور مادیات کی علاحدگی

پیغمبر اسلامﷺ نے مذاہب کی تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ آپ نے عقیدہ کو مادیات سے الگ کر دیا۔ مذہبی عقیدہ کی بنیاد آپ نے خدائی شریعت پر رکھی اور مادی شعبوں کے بارے میں انسان کو آزادی دے دی کہ تم سائنسی انداز میں اس پر ریسرچ کرو اور ریسرچ کے ذریعہ جو بات ثابت ہو اس کو اختیار کر لو۔

مقدس عقیدہ کو مادی شعبوں سے الگ کرنا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ دراصل مادی ترقی کے عمل میں حائل رکاوٹ کو دور کر دینے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ زراعت اور باغبانی جیسے شعبے قانون فطرت کے تحت  ہیں  نہ کہ قانون شریعت کے تحت۔ انسانی زندگی کی تشکیل بلاشبہ شرعی قانون کے تحت ہونی چاہیے۔ مگر زراعت اور باغبانی، انجینئرنگ اور تعمیرات، مشین سازی اور کارخانہ سازی، اس قسم کے مادی شعبے جو فطرت کے قانون پر مبنی ہیں، ان کو اس طرح قائم کیا جائے گا کہ ان کے بارے میں آزادانہ ریسرچ کی جائے گی اور تجربات کیے جائیں گے۔ آزادانہ ریسرچ اور تجربات کے ذریعہ جو طریقہ مفید ثابت ہو اس کو درست مان کر اختیار کرلیا جائے گا۔

مادی شعبوں کی تعمیر کے لیے یہی واحد کارگر اصول ہے۔ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ مذہب کو ذاتی عقیدہ کی چیز مانا جائے۔ ہر آدمی کو آزادی ہو کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو اپنے پسندیدہ مذہب کے مطابق بنائے۔ اگر کسی سماج میں تمام کے تمام لوگ ایک مذہب کو ماننے والے ہوں تو وہاں قانون اور اقتصادیات اور سیاسیات کے شعبوں کو بھی مذہب کے دائرہ میں لانا ممکن ہو جائے گا۔

لیکن جہاںتک مادی شعبوں کا تعلق ہے، ان میں مذہبی عقیدہ کا کوئی دخل نہیں ہوگا۔ مثلاً زمینی ذخائر کا استعمال، شہری منصوبہ بندی، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، کارخانہ بنانا اور کمیونی کیشن کا نظام قائم کرنا۔ سفر کے لیے سواریوں کا انتظام کرنا، اس قسم کی تمام چیزیں سائنس اور ٹیکنالوجی سے تعلق رکھتی ہیں نہ کہ مذہبی عقیدہ سے۔

کوئی شخص اگر سرسوتی کو علم کی دیوی مانتا ہے تو اپنے گھر میں وہ اس کی پرارتھنا کر سکتا ہے مگر تعلیمی اداروں میں اس کی پرارتھنا ایک سراسر غیر مفید بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے الیکٹرانک میڈیا میں’’غریبی ہٹاؤ غریبی ہٹاؤ‘‘ کا ٹیپ بجا کر کوئی شخص یہ سمجھے کہ ملک کی غریبی ختم ہو جائے گی۔ دنیا میں جن ملکوں نے علم کے میدان میں بڑی بڑی ترقیاں کی ہیں ان میں سے کوئی بھی ملک نہیں جو علم کی دیوی کے گیت گا کرترقی یافتہ بن گیا ہو۔ ہر ایک نے خالص سیکولر انداز میں اپنا تعلیمی پروگرام بنایا، اس نے مکمل طور پر فن تعلیم کی روشنی میں اپنا منصوبہ بنا کر یہ کامیابی حاصل کی۔ اس قسم کے شعبوں میں مذہبی عقیدے کو دخل دینا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ سرے سے خود مطلوب ترقی حاصل نہ ہو سکے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion