بے غرضی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں قحط پڑا اور لوگ سخت پریشان ہوگئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ نہ گھبراؤ۔ اللہ جلد ہی تمہارے لیے کشادگی کی صورت پیدا کر دے گا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا تجارتی قافلہ شام سے آیا، اس میں ایک ہزار اونٹ تھے اور سب کے سب گیہوں اور کھانے کی چیزوں سے لدے ہوئے تھے۔ یہ خبر مدینہ میں پھیلی تو شہر کے تاجر عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آئے۔ ان کے پاس ایک چادر تھی جس کو وہ اپنے کندھے پر اس طرح ڈالے ہوئے تھے کہ اس کا ایک سرا سامنے کی طرف لٹک رہا تھا اور دوسرا سرا پیچھے کی طرف۔
عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگ کیوں آئے ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ تاجروں نے کہا:ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ کے پاس ایک ہزار اونٹ گیہوں اور غذائی سامان آیا ہے۔ ہم ان کو خریدنا چاہتے ہیں۔ آپ ہمارے ہاتھ یہ غذائی سامان بیچ دیں تاکہ ہم اس کو مدینہ کے ضرورت مندوں تک پہنچا سکیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اندر آؤ اور گھر میں بیٹھ کر بات کرو۔ وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ غذائی اشیاء کے ایک ہزار ڈھیر گھر کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔
اب بات چیت شروع ہوئی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا:میری شام کی خریداری پر تم مجھ کو کتنا زیادہ نفع دو گے۔ انھوں نے کہا:دس درہم پر بارہ درہم۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا:دس درہم پرچودہ درہم۔ حضرت عثمان نے کہا مجھ کو اس سے زیادہ قیمت مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا اچھا دس درہم پر پندرہ درہم۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کون آپ کو اس سے زیادہ دے رہا ہے۔ جب کہ مدینہ کے جتنے تاجر ہیں سب یہاں جمع ہیں۔ حضرت عثمان نے کہا کہ مجھ کو ہر ایک درہم کے بدلے دس درہم مل رہا ہے۔ پھر کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو۔ انھوں نے کہا نہیں۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ اللہ نے اپنی کتاب پاک میں فرمایا ہے کہ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس کا دس گنا بدلہ ہے (6:160) تو اے مدینہ کے تاجرو، گواہ رہو کہ میں نے یہ تمام غذائی سامان اللہ کے لیے شہر کے ضرورت مندوں پر صدقہ کر دیا (الشریعۃ للاجری، اثر نمبر 1486)۔
یہ واقعہ خدا کے وعدہ پر یقین کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ خدا پر ایمان آدمی کے اندر اسی قسم کا یقین و اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کا یقین و اعتماد پیدا ہو جائے وہ اغراض و مصالح سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ اس کے حوصلے اتنا زیادہ بلند ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد بڑی سے بڑی قربانی بھی اس کے لیے مشکل چیز نہیں رہتی۔
