خلاصۂ کلام
حضرت مسیح کا ایک قول انجیل میں اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ— یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں ۔ صلح کرانے نہیں۔ بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں (متی، 10:34)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 25)۔ مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی قول مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ مقید معنوں میں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے تمام اقوال یا احکام صرف وقتی صورت حال کے اعتبار سے ہوتے ہیں۔ یعنی وہ صورت حال جب کہ فریق ثانی کی یک طرفہ جارحیت کی بنا پر دفاع کی ناگزیر ضرورت پیش آ گئی ہو۔ جہاں تک اصل پیغمبرانہ مشن کا تعلق ہے وہ ہر پیغمبر کے یہاں ایک ہی رہا ہے، اور وہ ہے نصح (خیر خواہی) اور امن کے ساتھ لوگوں کو خدا کی طرف بلانا۔ پیغمبرانہ مشن ہر حال میں اسی اصول پر جاری رہتا ہے ، وہ کسی بھی حال میں اپنی طرف سے تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ اگر فریق ثانی تشدد اور جارحیت پر آمادہ ہو جائے تب بھی پیغمبرانہ طریق کار کا تقاضا ہے کہ اعراض کے ذریعہ آخر وقت تک اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔
پیغمبر کا اصل کام انسان کو ہدایت دے کر اس کو صالح زندگی گزارنے کا موقع دینا ہے نہ کہ اس کو قتل کر کے اس کا خاتمہ کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر کے مشن میں امن کی حیثیت اصول عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثنا کی۔
