پیغمبروں کا مشن
پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو شرک سے ڈرائیں اور انہیں توحید کی تعلیم دیں، تاکہ انسان اس کے مطابق ، اپنی زندگی کی اصلاح کرے اور دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکے۔ مگر انسانیت کی لمبی تاریخ میں تقریباً ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد نے ان کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ خاص طور پر سماج کے بڑے لوگ کبھی پیغمبر کو ماننے یا ان کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس تاریخی واقعہ کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے (36:30)۔
خدا کے پیغمبروں کو نظرانداز کرنے کا یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ پچھلے دور میں آنے والے پیغمبروں کو انسانی تاریخ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی کی مدون تاریخ میں بادشاہوں کی داستانیں تو پڑھتے ہیں مگر پیغمبروں کا تذکرہ مدون تاریخ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس معاملے میں صرف پیغمبر اسلام ﷺ کا واحد استثنا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی۔ چنانچہ آپ نے پہلی بار ردّ شرک اور اثبات توحید کی تحریک کو ایک ایسی زندہ تحریک بنایا جس نے اس تحریک کو فکری مرحلہ سے اُٹھا کر عملی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچا دیا اور اس کی ایک مستقل تاریخ بنا دی۔
ردّ شرک اور اثبات توحید کی یہ تحریک قدیم زمانے میں کیوں عملی انقلاب کے درجہ تک نہ پہنچ سکی۔ اس کا سبب خاص طور پر دو تھا۔ ایک بادشاہت کا نظام ، دوسرے توہماتی افکار کا غلبہ۔ یہی دو بنیادی اسباب تھے جو پیغمبروں کے مشن کے خلاف ایک مستقل رکاوٹ بنے رہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ سے پہلے کے دور میں مشرکانہ بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ موجودہ زمانے میں جمہوری سیاست کا اصول رائج ہے۔ سیاسی لیڈر عوامی ووٹوں کے ذریعہ اپنے لیے حکمرانی کا حق حاصل کرتے ہیں۔ قدیم زمانے کے بادشاہ اس کے برعکس یہ کرتے تھے کہ وہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر حکومت کرتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں۔ ہم خدا کی اولاد ہیں۔ اسی نظریہ کے تحت قدیم زمانے میں سورج و نشی اور چندر و نشی کا عقیدہ پیدا ہوا ۔ گویا موجودہ زمانے میں حکومت کی بنیاد سیکولر جمہوریت ہے جب کہ قدیم زمانے میں حکومت کی بنیاد مشرکانہ عقیدہ پر ہوتی تھی۔ اسی واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى (79:24)۔ یعنی، پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اس بنا پر یہ بادشاہوں کے عین سیاسی مفاد میں تھا کہ شرک کا عقیدہ دنیا میں قائم رہے۔
چنانچہ ان کی خصوصی سرپرستی کے تحت عبادت گاہ سے لے کر جینے مرنے کی رسموں تک زندگی کا پورا نظام شرک کے اوپر قائم ہو گیا تھا۔
یہ مشرکانہ نظام قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک تمام دنیا میں چھایا رہا۔ بادشاہوں کی سرپرستی کی بنا پر یہ مشرکانہ نظام اتنا زیادہ طاقتور ہو گیا کہ وہ ہمیشہ پیغمبروں کے خلاف ایک موثر رکاوٹ بنا رہا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں پیغمبروں کی تحریک صرف پیغام رسانی کے مرحلہ تک محدود رہی، وہ وسیع تر عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکی۔
اس سلسلے میں دوسری رکاوٹ وہ تھی جس کو توہماتی افکار کا دور کہا جا سکتا ہے۔ قدیم زمانے میں جب کہ جدید قسم کی سائنسی دریافتیں نہیں ہوئی تھیں، انسان فطرت کے مظاہر کی صحیح نوعیت کو نہیں سمجھ پایا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کی حیران کن چیزیں ہیں۔ سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ اور سمندر، زمین اور آسمان ، درخت اور حیوانات وغیرہ وغیرہ۔ مظاہر کے اس تعدد کو دیکھ کر انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ ان کے خالق بھی کئی ہیں یا یہ کہ مختلف مظاہر خود مختلف خداؤں کا ظہور ہیں۔ اس طرح تعدد مظاہر کی بنا پر تعدد الٰہ کا نظریہ پیدا ہوا۔ یہاں تک کہ سورج اور چاند کو ان کے غیر معمولی پن کی بنا پر خدا یا دیوتا سمجھا جانے لگا۔ انسان کے لیے یہ ناقابل یقین ہو گیا کہ جب مخلوقات میں اتنا زیادہ تنوع اور تعدد ہے تو ان سب کا خدا ایک کیسے ہو سکتا ہے۔
اسی حقیقت کی طرف خدا کے پیغمبر حضرت ابراہیم ؑ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْرًا(14:36)۔ یعنی، فطرت کے یہ نمایاں مظاہر (سورج، چاند وغیرہ) نے انسان کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ لوگ انہیں مظاہر کو عظیم سمجھنے لگے۔ حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو عظیم خدا کی مخلوق سمجھیں۔ مگر اس کے برعکس، انھوں نے خود مخلوقات ہی کو خدا سمجھ کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانے میں مذکورہ دونوں افسانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک طرف جمہوری افکار کے ذریعہ ساری دنیا میں جو طاقتور سیاسی انقلاب آیا اس نے قدیم طرز کی مشرکانہ بادشاہت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا۔ اب آج کی دنیا میں قدیم طرز کے بادشاہوں کا کہیں وجود نہیں۔ وہ جدید جمہوریت کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ اس جدید سیاسی انقلاب کے بعد مشرکانہ عقیدہ یا مشرکانہ نظام اس موثر سرپرستی سے محروم ہو گیا جو ردّ شرک اور اثبات توحید کی دعوت میں طاقتور رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اب یہ امکان پوری طرح کھل گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کو بھرپور طور پر جاری کیا جائے اور اس کو اس طرح چلایا جائے کہ اول سے آخر تک کسی بھی مرحلہ میں اس کو کسی مزاحمت کا خطرہ نہ ہو۔
