صحت مند مقابلہ

99-1998ء کے درمیان ہندستان کی بعض ریاستوں (گجرات ، اڑیسہ) میں کچھ نچلی ذات کے ہندو اپنا مذہب چھوڑ کر عیسائی ہو گئے۔ اس پر کچھ انتہا پسند ہندو بھڑک اُٹھے۔ انھوں نے عیسائیوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے عیسائیوں کے سینکڑوں گھروں اور گرجاؤں کوتوڑ ڈالا۔ کئی عیسائیوں کو زندہ جلا کر مار دیا ، وغیرہ۔

مذکورہ واقعہ پر ایک ردّعمل کی مثال یہ تھی۔ دوسرے ردّعمل کی مثال وہ ہے جو پروفیسر امرتیہ سین کی زندگی میں ملتی ہے۔ اتفاق سے اسی زمانے میں ان کو اکنامکس کا نوبیل پرائز دیا گیا تھا۔ اس کے بعدوہ ہندستان آئے تو مذکورہ قسم کے ہندوؤں نے ان کے بارے میں یہ کہنا شروع کیا کہ امرتیہ سین کو جو نوبیل پرائز دیا گیا ہے وہ مغربی قوموں کی ایک سازش ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امرتیہ سین کو اپنا ایجنٹ بنائیں اور ان کے ذریعہ ہندستان میں عیسائی کنورزن کی تحریک کو فروغ دیں۔ جب وہ ہندستان آئے تو یہاں کے ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ کے خلاف جو الزام لگایا گیا ہے اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (29 دسمبر 1998) کی رپورٹ کے مطابق ، پروفیسر امرتیہ سین نے اس کا یہ جواب دیا:

I am not expected to respond to something like this.

کنورزن کے واقعہ پر کٹّر وادیوں کی مذکورہ منفی روش ہر پہلو سے قابل رد ہے۔ وہ اصولی اعتبار سے مکمل طور پر غلط ہے اور عملی اعتبار سے تباہ کن حد تک بے نتیجہ۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ اس واقعہ کو چیلنج کے روپ میں لیا جائے۔ اس معاملے کو اگر چیلنج کے روپ میں لیا جائے تو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے بعد یہاں دونوں گروہوں کے درمیان صحت مند مقابلہ (healthy competition) جاری ہو جائے گا جو ہر اعتبار سے ملک و قوم کے لیے مفید ہو گا۔

اس سے پہلے انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں اسی قسم کی صورت حال پیش آئی۔ اس وقت ملک میں نفرت کی فضا موجود نہ تھی اور نہ موجودہ قسم کےغیرسنجیدہ لیڈر اس وقت ہمارے یہاں پائے جاتے تھے۔ چنانچہ دونوں گروہوں کے درمیان خاموش طور پر ایک صحت مند مقابلہ شروع ہو گیا۔ دونوں ہی گروہوں میں ایسے لوگ اٹھے جنھوں نے اپنے اپنے مذہب کو زیادہ پرکشش انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ایک طرف ہندوؤں میں آروبندو، سوامی وویکانند، راج گوپال اچاری، ڈاکٹر رادھاکرشنن جیسے لوگ اٹھے۔ انھوں نے ہندو مذہب کو جدید اسلوب اور جدید اصطلاحوں میں پیش کیا۔ دوسری طرف مسلمانوں میں شبلی نعمانی ، سید سلیمان ندوی ، ڈاکٹر اقبال ، سید ابو الاعلیٰ مودودی جیسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کو جدید انداز اور جدید دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔

اس طرح دونوں گروہوں کے درمیان بلااعلان ایک صحت مند مقابلہ شروع ہو گیا۔ دونوں طرف سے تحریر اور تقریر کے ذریعہ مذہب کی ایسی نمائندگی کرنے کی کوشش کی گئی جو جدید ذہن کے لیے قابل قبول ہو سکے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کنورزن کا مسئلہ زحمت میں رحمت (blessing in disguise) بن گیا۔ دونوں طرف کے مذہبی افکار میں ترقی ہوئی۔ دونوں کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچا۔

اب موجودہ صورتحال میں بھی ضرورت ہے کہ دوبارہ یہی صحت مند مقابلہ جاری کیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے بجائے محبت اور انسانیت کی قدروں کو بڑھاوا دیا جائے۔ ملک کے مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان پرامن ڈائیلاگ ہونے لگے۔ مذہبی تعارف کے لیے آل مذاہب کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کی تعلیمات اور تاریخ پر علمی کتابیں مرتب کر کے شائع کریں۔ مذہب کے دائرے میں بھی وہی آزادانہ ڈسکشن ہونے لگے جو آج بھی سیکولر حلقوں میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔

کنورزن کے سوال پر اس قسم کا ردعمل اگر سامنے آئے تو وہ ہر مذہبی گروہ کے لیے غیرمعمولی فائدے کا باعث بنے گا۔ مذہبی مسائل زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔ سچائی کی تلاش کا ایک نیا عمل جاری ہو جائے گا۔ چھپی ہوئی حقیقتیں ظاہر ہونے لگیں گی۔ مذہب کی دنیا کا جمود ٹوٹے گا اور ہر طرف زندہ مذہب کا ماحول قائم ہو جائے گا۔

مزید یہ کہ فطرت کے عام اصول کے مطابق، یہ ذہنی بیداری صرف مذہب کے دائرے تک نہیں رہے گی بلکہ وہ بڑھتے بڑھتے عمومی دائرے تک پہنچ جائے گی۔ ایک اعتبار سے جمود و تعطل کا ٹوٹنا ہر اعتبار سے جمود و تعطل کے ٹوٹنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ مذہب کی بیداری زندگی کے دوسرے تمام شعبوں میں بیداری لانے کا سبب بنے گی۔ یہاں تک کہ پورا ملک اس سے متاثر ہو گا، ایک قوم جو آج بظاہر سوئی ہوئی دکھائی دیتی ہے وہ پوری طرح جاگ اٹھے گی۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہو گا کہ ہم نے ایک مسئلہ کو چیلنج کے روپ میں لیا اور صحت مند مقابلے کی صورت میں اس کا سامنا کیا ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion