سپریم کورٹ کا فیصلہ
1985 سے یکساں سول کوڈ کے مسئلہ نے نئی قانونی اہمیت اختیار کر لی جب کہ سپریم کورٹ کے ججوں نے اس کے حق میں اپنی رائے دینا شروع کر دیا۔
اس معاملے میں عدالتی بحث کا آغاز سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق چیف جسٹس مسٹر وائی وی چندرا چوڑ (پیدائش 1920) کے فیصلہ سے ہوتا ہے۔ 1985 میں انھوں نے محمد احمد - شاہ بانو کیس میں اپنا مشہور فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلہ میں اصل زیر بحث معاملے سے تجاوز کرتے ہوئے انھوں نے یہ کہنے کی بھی ضرورت محسوس کی کہ دستور کی دفعہ 44 کے تحت قانون بنانا وقت کا تقاضا ہے۔ اور یہ کہ ایک کامن سول کوڈ قومی ایکتا کو لانے میں مدد گار ہوگا:
a common civil code will help the cause of national integration.
اس کے بعد اسی 1985 میں سپریم کورٹ کے جسٹس چِن نپاریڈی (پیدائش 1922)نے ایک کیس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ایک اور مثال ہے جو اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ یکساں سول کوڈ ہماری فوری اور ناگزیر ضرورت بن چکا ہے:
The present case is yet another which focuses...on the immediate and compulsive need for a uniform civil code.
یہی بات زیادہ مفصل اور تاکیدی انداز میں سپریم کورٹ کی دو رکنی ڈویژن بنچ نے مئی 1995 میں اپنے متفقہ فیصلہ میں کہی ہے۔ اس کے ممبران جسٹس کلدیپ سنگھ (پیدائش 1932) اور جسٹس آر ایم سہاے (پیدائش 1930) تھے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دستور کی دفعہ 44 کے مطابق، یونیفارم پرسنل لا کو نافذ کرنا قومی استحکام کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ اس کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کہ کسی بھی وجہ سے ملک میں یونیفارم پرسنل لاکے نفاذ میں تاخیر کی جائے:
to introduce a uniform personal law (is) a decisive step towards national consolidation...There is no justification what so ever in delaying indefinitely the introduction of a uniform personal law in the country (p.22).
