پرامن جدوجہد کی تعلیم
قدیم زمانے میں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے انسان صرف ایک ہی طریقہ کو جانتا تھا، اور وہ مسلح جدوجہد ہے۔ اسلام نے تاریخ میں پہلی بار پرامن جدوجہد کا تصور رائج کیا اور اس کی ایک کامیاب عملی مثال بھی تاریخ میں قائم کر دی جوابدی طور پر لوگوں کے لیے ایک ماڈل کا کام دے۔
قرآن میں پیغمبر اسلام کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ— اور تم قرآن کے ذریعہ جہاد کرو، بڑا جہاد: وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًاكَبِيْرًا (25:52)۔ قرآن صرف ایک کتاب ہے، نہ کہ کوئی شمشیر۔ اس لیے اس حکم کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ تم اپنی جدوجہد کے لیے پرامن طریقہ (peaceful method) کو اپناؤ۔ غیر متشددانہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مشن کو کامیابی تک پہنچاؤ۔
اسی بات کو قرآن میں دوسری جگہ اس طرح کہا گیا ہے کہ’’ وَتَواصَوْا بِالْحَقِّ وَتَواصَوْا بِالصَّبْرِ‘‘(103:3)۔ یعنی، تم ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو۔ یعنی حق کے لیے صبر کرتے ہوئے جدوجہد کرو۔ دوسرے لفظوں میں، اس سے مراد پرامن جدوجہد ہے۔ کیونکہ صبر کے بغیر پرامن جدوجہد نہیں ہو سکتی۔
یہی بات حدیث میں بھی مختلف انداز میں بتائی گئی ہے۔ مثلاً صحیح البخاری کی ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا کہ اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا: إِنَّ اللهَ يُعْطي عَلَى الرِّفق مَا لَا يُعْطي عَلَى العُنْف (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ لفظ بدل کر دیکھا جائے تو یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں نان وائلنٹ ایکٹوزم (non-violent activism) یا پیس فل ایکٹوزم (peaceful activism) کہا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلامﷺ نے اپنا مشن عین اسی اصول پر چلایا اور اس کو آخری تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کی سیرت کا اس نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا جاتا تو اس سے پرامن جدوجہد کے تمام اصول کامیابی کے ساتھ مرتب کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نمایاں اصول یہ ہیں۔
1۔ تحریک کا آغاز دعوت سے کرنانہ کہ عملی اقدام سے(ابتدائی دور رسالت)۔
2۔ فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچنے سے پہلے عملی برائیوں کو برداشت کرنا(کعبہ میں بت)۔
3۔ فریق ثانی کی زیادتی کے باوجود یک طرفہ صبر کرنا(مکی دور)۔
4۔ جنگی ٹکراؤ کو آخری حد تک اوائڈ کرنا(غزوۃ خندق)۔
5۔ مقام نزاع سے اپنے آپ کو دور رکھنا (ہجرت)۔
6۔ صرف دفاع میں لڑنا، وہ بھی اس وقت جب کہ کوئی چارہ کار باقی نہ رہے (احدو حنین)۔
7۔ اقدام میں خاموشی کا طریقہ اختیار کرنا(مکہ کی طرف مارچ)۔
8۔ جنگ چھڑ جائے تو ہر قیمت پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا (صلح حدیبیہ)۔
9۔ قابو پانے کے باوجود دشمن کو معاف کرکے اس کو اپنا ساتھی بنا لینا(فتح مکہ)۔
10۔ مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کرنا۔
پیغمبر اسلامﷺ صرف23سال کی مدت میں پورے عرب میں ایک زبردست انقلاب لے آئے۔ اس جدوجہد کے دوران فریق مخالف نے 80 سے زیادہ بار آپ کو جنگ میں اُلجھانا چاہا مگر آپ کی پرامن پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ عملاً صرف تین بار(بدر، احد، حنین) صرف آدھے آدھے دن کے لیے باقاعدہ جنگ پیش آئی، وہ بھی ناگزیر دفاع کے طور پر۔ اس پوری مدت میں دونوں جانب کے ڈیڑھ سو سے بھی کم آدمی مارے گئے۔ یہ پورے معنوں میں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) تھا۔
اس انقلاب کے نتیجہ میں ایک عمل (process) جاری ہوا جو تاریخ میں مسلسل سفر کرتا رہا۔ اسلام کی پیدا کردہ دوسری تبدیلیوں کی طرح اسلام کا یہ پرامن انقلاب بھی پراسس کے روپ میں تاریخ میں جاری رہا۔ موجودہ زمانے میں اسی تصور نے پیسفزم (pacifism) کے نام سے ایک مستقل سماجی نظریہ کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اس میں کانٹ،سیموئیل، کالون سے لے کر مہاتما گاندھی تک بہت سی شخصیتوں کے نام شامل ہیں۔
مگر جہاں تک اس کی عملی کامیابی کا تعلق ہے، اس کی کوئی بھی دوسری نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر ہندستان کا گاندھیائی انقلاب (1947) عدم تشدد (non-violence) کے ذریعے وجود میں آیا۔ مگر اس انقلاب نے ہندوستانی سماج کے اندر عمومی معنوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں پیدا کی۔ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ انگریزی افراد کے بجائے کچھ ہندوستانی افراد حکومت پر قابض ہوگئے۔ اسی طرح ساؤتھ افریقہ کا حالیہ انقلاب بھی سماجی معنوں میں وہاں کوئی صالح تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔ اس کے نتیجے میں دوبارہ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ملک میں سفید فام افراد کے بجائے کچھ سیاہ فام افراد اقتدار کے منصب پر قابض ہوگئے، وغیرہ۔
