نئے گروہ کی ضرورت
حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ قیادت کی دعویدار تمام قومیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ ایک نیا اور تازہ دم گروہ ابھرے جو اس خلا کو پر کرے، جو آنے والی اکیسویں صدی کو حقیقی معنوں میں انسان کے لیے ایک نئی اور بہتر صدی بنا دے۔
میرے اندازے کے مطابق یہ نیا گروہ ہندوستانی مسلمانوں کا گروہ ہے۔ تقریباً60 مسلم قوموں میں ہندوستانی مسلمان استثنائی طورپر اس خصوصیت کے مالک ہیں کہ وہ انڈونیشیا کو چھوڑ کر سب سے بڑے عددی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ایک اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ چیلنج انسانی ترقی کی لازمی شرط ہے، اور یہ شرط موجودہ دور میں صرف ہندوستانی مسلمانوں کے حق میں پوری ہو رہی ہے۔ موجودہ ہندوستانی مسلمان ہی اس حالت میں ہیں کہ قانون فطرت کے تحت ان کے اندر وہ تخلیقی اور تعمیری اوصاف پیدا ہوں جو کسی قوم کو اس دنیا میں قیادت کا اہل بناتے ہیں۔
علامہ اقبال اور مسٹر محمد علی جناح نے غالباً ہندوستانی مسلمانوں کو اسی تعمیری رول کے لیے کھڑا کرنا چاہا مگر انھوں نے اس کے لیے جو تدبیر اختیار کی وہ درست نہ تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ مسلمانوں کے لیے علیٰحدہ پاکٹ(پاکستان) بنانا ان کے لیے اس قسم کا موقع دینے والا ثابت ہوگا مگر برعکس طور پر اس تدبیر نے ان مسلمانوں کو چیلنج کے ماحول سے محروم کر دیا، جب کہ چیلنج کا ماحول ہی کسی بڑے انسانی عمل کے ظہور میں آنے کی لازمی شرط ہے۔
تقسیم(1947) کے بعد ہندستان کے کچھ مسلم لیڈروں نے اس سلسلے میں ایک نیا منصوبہ بنایا۔انھوں نے چاہا کہ مسلم۔ دلت اتحاد قائم کریں اور اس طرح مسلمانوں کو زیادہ طاقت ور حیثیت دے کر انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ ملک میں کوئی بڑا رول ادا کر سکیں۔ مگر یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کی پہلی اور بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ مسلم۔ دلت اتحاد کا مقصد صرف مسلمانوں کے لیے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ وسیع تر ملکی مفاد اس کا حقیقی نشانہ نہیں تھا۔ اور اس قسم کی محدود اسکیم کسی بھی مشترک سماج میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے جس میں دوسروں کی خیر خواہی شامل ہو۔ محض اپنی خیر خواہی کی بنیاد پر بنایا ہوا منصوبہ قانون فطرت کے خلاف ہے اس لیے اس کا کامیاب ہونا بھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔
