تعلیم کی اہمیت
دستور ہند کے رہنما اصولوں کے تحت جو دفعات درج ہیں ان میں سے ایک اس کی دفعہ45 ہے۔ یہ دفعہ کہتی ہے کہ ریاست یہ کوشش کرے گی کہ دستور کے نفاذ کے بعد دس سال کی مدت میں وہ تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کر دے، یہاں تک کہ وہ چودہ سال کی عمر تک پہنچ جائیں:
The state shall endeavour to provide, within a period of ten years from the commencement of this Constitution, for free and compulsory education for all children until they complete the age of fourteen years.
غالباً بلاخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ دفعہ دستور کے رہنما اصولوں کے تحت درج شدہ دفعات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی یہی دفعہ سب سے زیادہ غیراہم بنی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ وہ حکومت سے بازپرس کرے کہ دس سال کی مقرر مدت گزرنے کے باوجود اس دفعہ پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔
دستور ہند کا نفاذ26 نومبر 1949 کو ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نومبر1959 میں دس سال کی یہ مقرر مدت پوری ہوگئی۔ مگر ملک کے تمام نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا نشانہ کسی بھی درجہ میں حاصل نہ ہو سکا۔
تعلیم کی اہمیت قومی تعمیر کے لیے اتنی زیادہ ہے کہ اس کے مقابلے میں کامن سول کوڈ کا معاملہ صرف ایک نان اشو کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمارا واحد نکاتی نشانہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم ملک کی آبادی کو صد فی صد تعلیم یافتہ بنائیں۔ اس کے سوا جس چیز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا وہ اصل قابل لحاظ چیز سے توجہ کو ہٹانے (shift of emphasis) کے ہم معنی ہوگا اور اس طرح توجہ کو اہم سے ہٹا کر غیر اہم میں اُلجھا دینا ایک قومی جرم ہے نہ کہ قومی خدمت۔
تعلیم کا تعلق اصلاً سروس سے نہیں ہے۔ تعلیم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ شعور کی تربیت کرتی ہے۔ وہ آدمی کو صحیح طرز پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ سماج یا قوم میں جتنے بھی مثبت اور مفید واقعات ہوتے ہیں وہ سب انہیں لوگوں کی دین ہوتے ہیں جو صحیح طرز فکر کے حامل ہوں۔
صحیح طرز فکر آدمی کے اندر دوراندیشی پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کو بتاتا ہے کہ وہ اختلافات سے کس طرح نپٹے۔ وہ آدمی کے اندر وہ بالغ نظری پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کرسکے۔ اس سے آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جانتا ہے۔ وہ ظاہر سے گزر کر اندرونی حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے۔ صحیح طرز فکر سے صحیح عمل ظہور میں آتا ہے، اور صحیح عمل ہی کسی فرد یا گروہ کو کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
سماج میں یک جہتی اور اتحاد کی فضا بنانے کے لیے اصل ضرورت یہ نہیں ہے کہ لوگوں کا شادی بیاہ کا طریقہ ایک ہو۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگ صحیح طرز فکر کے حامل ہوں۔ صحیح طرز فکر کیا ہے، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوگا۔
سوامی ویویکانند (1902-1863) کو ایک کرسچین بھائی نے اپنے مکان پر بلایا۔ کرسچین نے سوامی جی کو جانچنے کے لیے یہ کیا کہ اپنے ملاقات کے کمرہ میں ایک میز پر نیچے اور اُوپر بہت سی مذہبی کتابیں رکھ دیں۔ سب سے نیچے ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن رکھی۔ اس کے اوپر مختلف مذہبوں کی کتابیں، اور سب سے اوپر اپنی مذہبی کتاب بائبل۔ سوامی ویویکا نند جب کمرہ میں داخل ہوئے تو کرسچین میزبان نے کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیے، اس کے بارے میں آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ سوامی جی کتابوں کی مذکورہ ترتیب کو دیکھ کر مسکرائے، اور کہا:فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے۔
سوامی جی اگر اس معاملے کو وقار(پرسٹیج) کا اشو بناتے تو وہ بگڑ جاتے۔ وہ کہتے کہ کیا تم نے مجھے ذلیل کرنے کے لیے یہاں بلایا تھا۔ اب دونوں میں تکرار شروع ہو جاتی۔ عین ممکن ہے کہ یہ تکرار بڑھ کراس نوبت تک پہنچتی کہ امن قائم کرنے کے لیے پولیس کو بلانا پڑتا۔ لیکن سوامی جی نے اس کو وقار کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کو اعراض کا مسئلہ بنا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو معاملہ دونوں کو لڑائی تک پہنچاتا، وہ دونوں کے درمیان مسکراہٹ کے تبادلہ پر ختم ہوگیا۔
یہ قابل قدر واقعہ کیوں کر پیش آیا۔ کیا اس لیے کہ سوامی ویویکانند اور مذکورہ کرسچین کا شادی بیاہ کا طریقہ ایک تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ کیونکہ ان میں سے ایک ہندو تھا اور دوسرا عیسائی، اور ہندوؤں اور عیسائیوں میں شادی بیاہ کا طریقہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔
اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ سوامی ویویکانند ایک ایسے آدمی تھے جن کی اعلیٰ تعلیم نے ان کو حد درجہ باشعور بنا دیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح کسی واقعہ کو منفی رخ دینے کے بجائے اس کو مثبت رخ دیا جا سکتا ہے۔ وہ سوچنے کا آرٹ جانتے تھے۔ وہ زندگی کی سائنس سے واقفیت رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ کس طرح اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ رہا جا سکتا ہے۔ اس کا راز سوامی جی کی شعوری بیداری تھا نہ کہ کسی قسم کا مشترک سول کوڈ۔
