بیسویں صدی کا جائزہ

 بیسویں صدی میں دنیا کے نقشہ پر کئی قومیں ابھریں جنھوں نے عالم انسانی کی قیادت کا رول ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے تین خاص طور پر قابل ذکر ہیں— سوویت یونین، امریکہ، ہندوستان۔ مگر یہ تمام طاقتیں یا تو عملاً ناکام ہو چکی ہیں یا وہ ناکامی کے کنارے کھڑی ہوئی ہیں۔

1917میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا، اس کے بعد سوویت یونین کی شکل میں اس کا ایک عظیم امپائر بن گیا۔ تقریباً 75 سال تک شان و شوکت دکھانے کے بعد اس کا یہ حال ہوا کہ1991 میں وہ ریت کے محل کی طرح ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظام سرتاسر غیر فطری بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ خدا نے اس دنیا کا نظام مسابقت (competition) کے اصول پر قائم کیا ہے۔ مگر کمیونسٹ امپائر نے اس کو ختم کرکے ریاستی کنٹرول کی مصنوعی بنیاد پر زندگی کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ نظام اول دن ہی سے قابل عمل نہ تھا۔ کچھ دن تک وہ جبر اور پروپیگنڈہ کے زور پر چلتا رہا۔ اس کے بعد وہ خود اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر منہدم ہوگیا۔

امریکی نظام تقریباً دو سو سال سے بدستور ابھی تک چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے ابتدائی دانشوروں نے اس کو صحیح فکری بنیاد یعنی مسابقت کے اصول پر قائم کیا۔ تاہم امریکی نظام میں اول دن سے ایک کمزوری شامل تھی۔ وہ یہ کہ یہ نظام مذہب اور سیاست کی تفریق کے اصول پر قائم کیا گیا۔ اس قسم کی تفریق اصولی طور پر غلط ہے مگر وہ کم ازکم اقتصادی پہلو سے ایک قابل بقا(sustainable) نظام تھا۔ اس لیے وہ ظاہری ڈھانچہ کے اعتبار سے چلتا رہا اور بظاہر اب بھی چلا جا رہا ہے۔

 تاہم گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ امریکی نظام اب آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ اس زوال کا نمایاں مظاہرہ (99-1998) میں موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی (Monica Lewinsky) کے واقعہ کی صورت میں ہوا۔ مونیکا لیونسکی واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس کی ایک نوجوان کارکن تھی۔ کلنٹن نے اس سے خفیہ جنسی تعلق قائم کر لیا۔ جب یہ راز افشا ہوگیا تو صدر کلنٹن نے دو اور غلطیاں کیں۔ ایک دروغ حلفی (perjury) اور دوسرے انصاف میں رکاوٹ ڈالنا۔13 ماہ تک اسمبلی کی سطح پر کیس چلتا رہا یہاں تک کہ12 فروری1999 کو ممبران کی کثرت رائے سے کلنٹن کو بری کر دیا گیا۔

اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ امریکی عوام کی تقریباً 75 فیصد تعداد صدر کلنٹن کے مواخذہ (impeachment) کے خلاف تھی۔ امریکی عوام کی رائے یہ تھی کہ صدر کلنٹن نے امریکی اقتصادیات کو بہتر بنایا ہے۔ ایسی حالت میں اگر ان کی ذاتی زندگی غیراخلاقی ہو تو ہمارے لیے وہ قابل لحاظ نہیں۔ امریکی عوام کے اس رحجان کی بنا پر صدر کلنٹن کے خلاف مواخذہ کی تحریک ناکام ہوگئی۔

200سال پہلے امریکہ نے سیاست کو مذہب سے جدا کیا تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ امریکی قوم نے مزید آگے بڑھ کر اخلاقی اقدار (moral values) کو بھی اپنی سیاسی اور قومی زندگی سے الگ کر دیا  ہے۔ مزید یہ کہ دوسری علیحدگی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے کہ نہ صرف امریکی عوام بلکہ ساری دنیا کے لوگوں نے اس کو جان لیا۔ بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کا یہ قصہ ایک ایسے زمانے میں پیش آیا جب کہ دنیا میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں داخل ہو چکی تھی۔ چنانچہ پورے ایک سال تک یہ معاملہ ہر روز لوگوں کے سامنے آتا رہا۔ دنیا میں بسنے والا تقریباً ہر شخص اس کو جان گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں اخلاقی اقدار اور سیاست کے درمیان یہ جدائی خاموش عمل کے طور پر نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اعلان اور اشتہار کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہ برائی امریکی سماج میں اگر خاموش عمل کے طور پر ہوتی تو وہ امریکہ کے لیے کچھ اور زندگی کی ضمانت بن سکتی تھی جیسا کہ قدیم بادشاہوں کے ساتھ پیش آیا۔ مگر اس کو علی الاعلان اختیار کرکے امریکہ نے اپنے زوال کے سفر کو بہت زیادہ تیز کر دیا ہے۔ کوئی بھی نظام اخلاقی صفات سے محروم ہو کر قائم نہیں رہ سکتا۔ اور امریکہ یقینی طور پر اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔

 تیسری مثال ہندستان کی ہے۔ہندستان میں تقریباً سو سال کی جدوجہد کے بعد 15 اگست 1947 کو آزادی آئی۔ سوامی وویکا نند نے کہا تھاکہ آزادی کے بعد ہندستان ورلڈ لیڈر بنے گا۔ مگر عملاً کیا ہوا، یہ ملک لمبی مدت سے اونچی ذات اور نیچی ذات کے دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر اونچی ذات والوں نے آزادی کو ہائی جیک (hijack) کر لیا۔ یہی لوگ آزادی کے بعد سے مسلسل ملک کے اوپر حکومت کر رہے ہیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ ملک کو ایسا نظام دینے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں جو مہاتما گاندھی کے الفاظ میں’’ہر آنکھ کے آنسو پوچھنے والا ہو‘‘۔

اس ناکامی کا سبب بالکل واضح ہے۔ ملک کے اونچے طبقے (upper cast) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے وہ ایک ایسی محدود آئیڈیالوجی ہے جو پوری انسانیت کو اپنے دامن میں نہیں لیتی۔ اس آئیڈیالوجی میں اونچی ذات والوں کے لیے تو باعزت جگہ ہے۔ مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں۔ اس آئیڈیالوجی کے مطابق، ہر آدمی جس حال میں ہے وہ خود اس کی اپنی ہی پچھلی زندگی کا لازمی اور ناقابل تقسیم نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ غریب اور مظلوم ہیں وہ فطرت کے جبری نظام کے تحت خود اپنے ماضی کے کردار کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ انہیں زندگی کے آخری لمحہ تک اس نتیجہ کو بہرحال بھگتنا ہے۔ یہ آئیڈیالوجی ملک کے نصف سے زیادہ حصہ کو اونچی ذات کے حکمرانوں کی نظر میں ایک ایسا کیس بنا دیتی ہے جس پر رحم کرنا ضروری تو کیا ممکن بھی نہیں۔

پیدائش کے اس جبری نظریہ نے اونچی ذات کے حکمرانوں کو جو آئیڈیالوجی دی وہ ایک محدود آئیڈیالوجی تھی۔ اس محدود آئیڈیالوجی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حکمرانوں کے دل میں وسیع تر انسانیت کے لیے نرم گوشہ پرورش نہ پا سکا۔ ان کے لیے آزادی صرف اس بات کا موقع بن گئی کہ وہ سب کچھ اپنے لیے جمع کر لیں اور دوسروں کے لیے کچھ نہ چھوڑیں، کیونکہ دوسرے لوگ اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ وہ محروم رہ کر اپنے پچھلے دور حیات کی غلطیوں کی سزاپائیں اور اسی حال میں مر کر وہ اس دنیا سے چلے جائیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion