چند مثالیں
قرآن کی سورۃ الرعد میں ارشاد ہوا ہے کہ— اللہ ہی ہے جس نے آسمان کو بلند کیا بغیر ایسے ستون کے جو تمہیں نظر آئیں۔ پھر وہ اپنے تخت پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند بنایا۔ ہر ایک، ایک مقرر وقت پر چلتا ہے۔ اللہ ہی ہر امر کی تدبیر کرتا ہے۔ اور وہی آیات کی تفصیل کر رہا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو (13:2) ۔
قرآن کے اس بیان میں تدبیر امر سے مراد خدا کا وہ انتظام ہے جو وہ کائنات میں براہ راست اور کامل طور پر نافذ کیے ہوئے ہے۔ اور تفصیل آیات سے مراد وہ آیات ہیں جو وحی کے ذریعہ پیغمبر پر نازل کی گئی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اول الذکر سے مراد قانون فطرت ہے اور ثانی الذکر سے مراد قانون شریعت۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ دونوں ایک ہیں۔ ان میں صرف یہ فرق ہے کہ ایک مجبورانہ طور پر مطلوب ہے اور دوسرا اختیارانہ طور پر۔
انسان کو عین وہی دین خود اپنی مرضی سے اختیار کرنا ہے جس کو بقیہ کائنات خارجی حکم کے تحت اختیار کیے ہوئے ہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح بیان کرتی ہیں (62:1) ۔ کائنات کی یہ چیزیں زبان حال سے اس طرح تسبیح کر رہی ہیں کہ ان کاوجود مکمل طور پر خدا کی قدرت و عظمت کا عملی اظہار بن گیا ہے۔ انسان کو یہی تسبیح شعوری طور پر زبان قال سے کرنا ہے۔ یعنی اس کا سینہ خدا کی عظمتوں کے احساس سے اس طرح سرشار ہو جائے کہ وہ اسی کے ترانے گانے لگے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ درخت اور دوسری بلند چیزیں اللہ کے آگے سجدہ کرتی ہیں۔ یہ سجدہ سائے کی صورت میں ہوتا ہے (13:15)۔ زمین پر کھڑی ہوئی چیزوں کے اوپر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو مخالف سمت میں ان کا سایہ نیچے زمین پر پڑ جاتا ہے۔ یہ گویا مادّی چیزوں کا سجدہ ہے۔ یہی سجدہ انسان سے ا س طرح مطلوب ہے کہ اس کے دل میں خدا کی خدائی کے اعتراف کا طوفان برپا ہو اور وہ عبودیت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اللہ کا پرستار بن جائے۔ وہ اس کے آگے بے تابانہ طور پر سجدہ میں گر پڑے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے درخت پیدا کیا جو انسان کو طرح طرح کے فائدے یک طرفہ طور پر دیتا ہے (14:24)۔ انسان کو بھی اسی طرح دوسروں کے لیے نفع بخش بننا چاہیے۔ ہر انسان کو شعوری طور پر یہ کوشش کرنا چاہیے کہ اس کی ذات سے دوسروں کو سایہ اور پھل اور خوشبو اور سر سبزی ملے۔ وہ دنیا والوں کے لیے فرحت بخش باغ بنے، نہ کہ خشک صحرا۔ اور یہ سب کچھ وہ یک طرفہ طور پر خدا کے لیے کرے،نہ کہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے لوہا پیدا کیا جس میں زبردست طاقت ہے (57:25)۔ مادی دنیا میں لوہا ایک پراعتماد دھات کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان سے بھی یہی اعتماد والی صفت مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ حدیدی کردار کا حامل بنا ہوا ہو۔ وہ کبھی اپنے قول سے نہ پھرے۔ وہ کبھی اپنے عمل میں کمزوری نہ دکھائے۔ وہ ایک پختہ سیرت والا آدمی ہو۔ وہ لوہے کی طرح قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک بن جائے۔
اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ’’اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور ا س میں ترازو رکھ دی کہ تم تولنے میں زیادتی نہ کرو (7-8:55)۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں نہایت متناسب کشش رکھی ہے۔ اسی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ترازو بالکل درست تولتا ہے۔ اس طرح اللہ نے دنیا میں انصاف کا ایک علامتی نمونہ قائم کر دیا ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ دوسروں سے معاملہ کرنے میں وہ کبھی غیر منصفانہ روش اختیار نہ کرے۔ ایک درست ترازو کی طرح وہ ایسا کرے کہ جب ا س کو دوسروں سے لینا ہوتو ٹھیک اتنا ہی لے جتنا کہ اس کا حق ہے۔ اسی طرح جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ ان کا پورا حق ادا کرے۔ وہ لین دین میں غیر منصفانہ قسم کی ہر کمی اور زیادتی سے اپنے آپ کو بچائے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آسمان میں تمام اجرام گھوم رہے ہیں۔ ’’نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ اور سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں (36:40)۔ خلا میں ان گنت ستارے اور سیارے ہیں۔ یہ سب کے سب نہایت تیزی کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ مگر ان کے درمیان کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ستارہ یا سیارہ حد درجہ پابندی کے ساتھ اپنے مدار (orbit) میں گھومتا ہے۔ وہ کبھی اپنے مقرر مدار سے نہیں ہٹتا۔
ٹھیک یہی روش انسان سے بھی مطلوب ہے۔ ہر انسانی فرد اور ہر انسانی گروہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح جاری کرے کہ اس کا ٹکراؤ ایک دوسرے سے نہ پیش آئے۔ کوئی بھی شخص یا قوم یہ نہ کرے کہ وہ اپنا فائدہ لینے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچانے لگے۔ خلا کے تمام متحرک اجرام دوسروں کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنا عمل جاری کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے مقصد کو اس طرح حاصل کرے کہ اس نے دوسروں کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہ کیا ہو۔
خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی جو کتابیں نازل فرمائیں ان کا مقصد اسی قانون فطرت کا شرعی اظہار تھا۔ مگر اب کوئی سابق کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں رہی۔ اب صرف قرآن خدا کی واحد محفوظ کتاب ہے۔ اس بنا پر اب صرف قرآن تنہا مستند ذریعہ ہے جس سے کوئی شخص صحیح طور پر یہ جان سکتا ہے کہ دنیا میں وہ کس طرح زندگی گزارے، جس کے بعد آخرت میں وہ خدا کا محبوب بندہ ٹھہرے۔ اس کو دنیا میں بھی خدا کی رحمتیں ملیں اور آخرت میں بھی۔
قرآن کی سورۃ الاحزاب میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور وہ اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اس کو اٹھا لیا ، بے شک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر رحمت فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے (33:72-73)۔
اس آیت میں خدا کا وہ منصوبہ بتایا گیا ہے جس کے تحت اس نے موجودہ کائنات کو پیدا کیا ہے۔ اس منصوبہ کے مطابق بقیہ کائنات اس بات کی پابند ہے کہ وہ خدا کے حکم سے کسی بھی قسم کا کوئی انحراف نہ کرے۔ وہ آخری حد تک اطاعت شعارانہ انداز میں خدا کے تخلیقی نقشہ کی تعمیل کرتی رہے۔ اس کے مقابلے میں انسان کو انتخاب (choice) کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کا پابند بنائے اور چاہے تو اس کے خلاف عمل کرے۔
موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ملے ہوئے اختیار کا غلط استعمال نہ کرے۔ وہ اپنی سوچ کو خدائی نقشہ کا تابع بنائے۔ وہ اپنی کارروائیوں میں کبھی جائز حد سے باہر نہ جائے۔ وہ دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہمیشہ خدائی انصاف کا پابند بنا رہے۔ خلاصہ یہ کہ وہ خدا کی دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہے۔ وہ دوسروں کے اوپر خدا بننے کی کوشش نہ کرے۔
آیت سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے عملی ریکارڈ کے مطابق، خدا کی عدالت میں انسانوں کے دو مختلف گروہ قرار دیے جائیں گے۔ ایک وہ گروہ جس نے اپنے آپ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق بنایا۔ جس نے وہی کیا جو خدا کی مرضی کے مطابق تھا اور وہ نہیں کیا جو خدا کی مرضی کے خلاف تھا۔ یہ لوگ خدا کے پسندیدہ بندے قرار پائیں گے۔ وہ خدا کی پُرراحت جنتوں میں بسائے جائیں گے جہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی گزارتے رہیں گے۔
دوسرا گروہ وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کے تخلیقی نقشہ کے تابع نہ بنائے۔ خواہ وہ کھلم کھلا خدا کے تخلیقی نقشہ کو ماننے سے انکار کرے یا وہ منافقت کی زندگی اختیار کرے۔ یعنی بظاہر وہ خدا پرستوں کے ساتھ ملا ہوا ہو مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا دین خود پرستی ہو نہ کہ خدا پرستی۔ یہ دونوں ہی گروہ ظاہری اختلاف کے باوجود ایک ہی انجام کے مستحق قرار پائیں گے۔ دونوں کو یکساں طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ ابدی طور پر اپنی سرکشی کی سزا بھگتتے رہیں۔
