اسلام تغیر پذیردنیا میں

اسلام کا ظہور چودہ سو سال پہلے ہوا۔ پھر آج کی دنیا میں وہ کس طرح قابل عمل ہو سکتا ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمانہ بدلتا رہتا ہے۔ پھر اسلام جیسا ایک غیر متغیر دین بعد کے زمانے کے لوگوں کو کس طرح رہنمائی دے سکتا ہے۔ ایک نہ بدلتی ہوئی حقیقت بدلتے ہوئے حالات سے کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔

 یہ سوال تمام تر مفروضات پر قائم ہے۔ اس کے پیچھے غلط فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسلام نہ کلی معنوں میں غیر متغیر حقیقت ہے اور نہ زمانہ کلی معنوں میں متغیر حقیقت۔ اصل یہ ہے کہ اسلام فطرت کا ایک قانون ہے۔ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جو اسی طرح ابدی ہے جس طرح فطری حقیقتیں ابدی ہوتی ہیں۔ اسلام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس میں بدلتے ہوئے حالات کی رعایت پہلے ہی سے موجود ہے۔

خود زمانے کا معاملہ بھی یہی ہے۔ زمانی حالات کی نوعیت بھی یہی ہے کہ اس میں کچھ چیزیں ابدی طور پر یکساں رہتی ہیں۔ مثلاً سورج سے روشنی لینا اور ہوا سے آکسیجن حاصل کرنا۔ ان کے علاوہ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ظاہری طورپر، نہ کہ حقیقی طورپر، بدلتی رہتی ہیں۔ مثلاً سواری یا طرز تعمیر وغیرہ۔ ا ن دوسرے قسم کے معاملات میں اسلام نے اسپیشل طور پر ایسی رعایتیں گنجائشیں رکھ دی ہیں جو ہر بدلے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہوں اور اس طرح اسلام ہمیشہ اپنی قابل عمل ہونے کی حیثیت کو برقرار رکھے۔ یہاں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ:إنَّ ‌هذا ‌الدِّينَ ‌يُسْرٌ (سنن النسائي،حدیث نمبر 5034)۔ إِنَّ ‌الدِّينَ ‌يُسْرٌ(صحيح البخاري ،حدیث نمبر 39)۔یعنی، دین آسان ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دین میں سب آسانی اور سہولت والے احکام ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کا نظام ایسے فطری انداز میں بنایا گیا ہے کہ وہ ہر صورت حال میں قابل عمل رہے۔ اہل اسلام کا سفر حیات کبھی بھی کسی ایسے مرحلہ سے دو چارنہ ہو کہ وہ اپنے آپ کو بند گلی(impasse) میں محسوس کرنے لگیں۔

یہاں اس سلسلے میں اسلام کے چند اصول درج کیے جاتے ہیں جن سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہوتی ہے کہ حالات کی کوئی بھی تبدیلی اسلام کے لیے مسئلہ نہیں۔ ہر صورت حال میں اسلام اپنی فعالیت کو یکساں طور پر باقی رکھتا ہے۔

1۔ اسلام کے کچھ احکام وہ ہیں جو بنیادی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اسی طرح ابدی ہیں جس طرف فطرت کے قوانین ابدی ہیں۔ اسلام کے اسی حصہ کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ:لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ (6:34)۔ یعنی، اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ اسلام کا وہ حصہ ہے جس میں عقیدہ، اخلاقی اقدار اور بنیادی اصول حیات شامل ہیں۔ یہ تعلیمات سب کی سب ابدی ہیں۔ حالات میں کوئی بھی تبدیلی ان کی قدر و قیمت کو بدلنے والی نہیں۔ مثلاً خدا کو ایک جاننا یا سچ بولنا یا تمام انسانوں کو خون شریک بھائی (blood brothers) سمجھنا وغیرہ۔

تاہم یہاں بھی حالات کی ایک رعایت پیشگی طور پر رکھ دی گئی ہے اور وہ قانون اضطرار ہے۔ اس قانون کے مطابق انسان بس اتنے ہی کا مکلف ہے جتنا اس کے بس میں ہو (2:286) مثلاً اگر حالات کا شدید تقاضا ہو تو اجازت ہے کہ آدمی توحید کو صر ف دل سے مانے، وہ زبان سے اس کا اعلان و اظہار نہ کرے۔ تکلیف بقدر وسع کا اصول ایک عام اصول ہے اور وہ عقیدہ سے لے کر عمل تک ہر چیز پر محیط ہے۔

2۔ اس سلسلے میں دوسرا اصول وہ ہے جو اس حدیث سے مستنبط ہوتا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ:‌أَنْتُمْ ‌أَعْلَمُ ‌بِأَمْرِ ‌دُنْيَاكُمْ (صحيح مسلم، حدیث نمبر2363)۔ یعنی، تم اپنے دنیا کے معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ یہ حدیث ابتدائی طورپر تأبیر نخل، بالفاظ دیگر، باغبانی (horticulture) کے بارے میں آئی ہے۔ مگر توسیع مفہوم کے اعتبار سے اس میں وہ تمام امور شامل ہو جاتے ہیں، جن کا تعلق تعمیر دنیا سے ہے، نہ کہ نجات آخرت سے۔ یہ اس سلسلے میں ایک نہایت اہم رہنما اصول ہے۔ اس نے نجات آخرت کے امور اور تعمیر دنیا کے امور کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا ہے۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کو اخروی نجات والے معاملات میں قرآن و سنت سے ہدایت لینا ہے۔ اور جو امور معاملات دنیا کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں اپنی تحقیق و ریسرچ کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں صنعت و زراعت کے تمام شعبے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام شاخیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح اہل اسلام کو یہ آزادی مل جاتی ہے کہ کسی اعتقادی بندش کے بغیر خالص علمی ریسرچ کی روشنی میں اپنے معاملات کا انتظام وا نصرام کرتے رہیں۔

ان معاملات میں اسلام صرف وہاں دخل دے گا جہاں کوئی بات صراحۃً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔ مثلاً ہوائی جہاز کی انڈسٹری کیسے قائم کی جائے اس میں اسلام کی طرف سے مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ البتہ اگر یہ سوال ہو کہ ہوائی جہاز کے مسافروں کو سافٹ ڈرنک دیا جائے یا شراب تو یہاں اسلام یہ کہے گا کہ انہیں شراب کے بجائے سافٹ ڈرنک دینا چاہیے۔

3۔ اس سلسلے کی تیسری اہم تعلیم وہ ہے جو پیغمبر اسلام کے ایک اسوہ سے نکلتی ہے۔ مدنی دور میں ایک شخص (مسیلمہ) نے یہ اعلان کیا کہ میں بھی خدا کا پیغمبر ہوں اور مجھ کو محمد کے ساتھ پیغمبری میں شریک کیا گیا ہے (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 600)۔ اس مدعی نبوت کے دو سفیر رسول اللہﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس معاملے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو ہمارے صاحب کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ دستور نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہ کیا جائے تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا (مسند احمد، حدیث نمبر 3761) یہ کہہ کر آپ نے انہیں واپس بھیج دیا۔

اس سے ایک اہم اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاملات جو اپنی نوعیت میں بین الاقوامی(انٹرنیشنل) ہوں اور جن کے بارے میں واضح بین الاقوامی روایات قائم ہو چکی ہوں ان میں اسلام کا بھی وہی اصول ہوگا جو مختلف قوموں کے درمیان عالمی سطح پر مان لیا گیا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں عام طور پر جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج تھا چنانچہ اسلام میں بھی ایک مدت تک وہ اسی طرح رائج رہا مگر اب چونکہ اس معاملے میں عالمی دستور بدل چکا ہے اس لیے اب اس پر عمل بھی نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ عراق، ایران جنگ (1988-1980) میں دونوں طرف ہزاروں کی تعداد میں جنگی قیدی پکڑے گئے۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی غلام نہیں بنایا گیا۔ بلکہ ایک مدت تک قید میں رکھنے کے بعد تبادلہ کی بنیاد پر انہیں رہا کر دیا گیا۔

4۔ کچھ امور وہ ہیں جن میں کچھ پہلو اتفاق کے ہوں، کچھ پہلو اختلاف کے۔ ایسے امور میں اسلام کا موقف بالکل واضح ہے۔ حالات کے مطابق، اس طرح کے معاملات میں بقدر ضرورت ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایسے مواقع پر آئیڈیل اپروچ کے بجائے پریکٹیکل اپروچ اسلام کا طریقہ ہوگا۔

اس سلسلے میں سیکولرزم اور ڈیما کریسی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ سیکولرزم کا مطلب ہے مذہب کو ذاتی دائرے میں رکھ کر بقیہ معاملات میں وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں سماج کا مجموعی مفاد شامل ہو۔ مخصوص حالات میں اس کو اسلام میں بھی اختیار کیا جائے گا۔ اس کی ایک مثال خود پیغمبر کی زندگی میں مدنی دور کا ابتدائی نصف زمانہ ہے۔ اس زمانے میں مدینہ کی ابتدائی اسٹیٹ میں جو نظام اختیار کیا گیا وہ اپنے عملی ڈھانچہ کے اعتبار سے کم و بیش وہی تھا جس کو موجودہ زمانے میں سیکولرزم کہا جاتا ہے۔

5۔ ان سب کے باوجود ایسا ہو سکتا ہے کہ کچھ امور ایسے ہوں جن میں اسلام کا اور بدلی ہوئی دنیا کا اختلاف باقی رہے۔ ایسے معاملات کے لیے اسلام میں کیا ہدایت ہے اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرتے رہو، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو (الغاشیہ، 88:22)۔

 اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اس قسم کے اختلافی امور میں  دونوں فریقوں کے درمیان ڈائیلاگ ہوگا۔ اہل اسلام دوسروں کو اپنی پوزیشن بتانے کی کوشش کریں گے۔ خالص پرامن انداز میں یہ کوشش جاری رہے گی کہ حق واضح ہو، اور لوگ دلیل کی زبان سے مطمئن ہو کر حق کو قبول کر لیں۔

تاہم یہ سارا کام صرف پرامن ترغیب کے دائرہ میں ہوگا، کسی بھی حال میں کوئی متشددانہ طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا خواہ یہ اختلافات ختم ہو جائیں یا بدستور لمبی مدت تک باقی رہیں۔ یہ اصول اس بات کا ضامن ہے کہ اسلام کی پوزیشن فکری طور پر لوگوں کے اوپر واضح ہو جائے۔ اہل اسلام اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو اس سے پوری طرح باخبر کر دیں۔

اس کی ایک مثال مرد اور عورت کی صنفی مساوات (gender equality) کا مسئلہ ہے، اس معاملے میں اسلام اور جدید مغرب کے نقطہ نظر میں اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ جدید مغرب کا یہ کہنا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس(مقام کار) ایک ہے۔ مگر اسلام کا نقطہ نظریہ ہے کہ جہاں تک عزت، احترام اور انسانی حقوق کا سوال ہے، دونوں کے درمیان مکمل مساوات ضروری ہے۔ لیکن جہاں تک ورک پلیس کا تعلق ہے دونوں کا ورک پلیس بنیادی طور پر الگ ہوگا۔ کیونکہ حیاتیات اور نفسیات کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس اختلاف کے سوال پر اسلام اور مغرب کے درمیان پچھلے سو سال سے رسمی اور غیر رسمی سطح پرڈائیلاگ جاری ہے اگرچہ ابھی تک اس معاملے میں دونوں کے درمیان کوئی اتفاق رائے ممکن نہ ہو سکا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion