اسلام نیا مذہب نہیں
قرآن میں مذہب کا جو تصور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ یہ ایک ہونا اس مفہوم میں نہیں ہے کہ تمام مذاہب اپنی موجودہ صورت میں یکساں طور پر برحق ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اصل کے اعتبار سے تمام مذاہب ایک تھے مگر بعد کو تبدیلی اور اضافے کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے۔
قرآن کی سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے کہ ’’لوگ ایک امت تھے۔ انھوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ اتاری کتاب حق کے ساتھ تاکہ وہ فیصلہ کر دے ان باتوں کا جن میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ اختلاف انہیں لوگوں نے کیا جن کو حق دیا گیا تھا ، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آچکی تھیں ، آپس کی ضد کی وجہ سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق سے حق کے معاملے میں ایمان والوں کو راہ دکھائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے (2:213)۔
قرآن کی اس آیت میں مذاہب کی جو نوعیت بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے انسانیت کا آغاز ایک پیغمبر سے کیا۔ اس کو اپنی تعلیمات دیں تاکہ وہ لوگوں کو ان سے آگاہ کر دے۔ مگر بعد کی نسلوں میں بگاڑ آیا اور خدا کی تعلیم اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہی۔ اب دوسرا پیغمبر آیا جس نے خدا کی تعلیمات کو ازسرنو اس کی صحیح صورت میں پیش کیا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دوبارہ بگاڑ آگیا اور دوبارہ ایسا ہوا کہ خدا کی تعلیم اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہی۔ اس کے بعد پھر نیا پیغمبر آیا تاکہ وہ ازسرنو خدا کے دین کی تجدید کرے۔
یہ معاملہ ہزاروں سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ آخری زمانےمیں بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ خدا کی طرف سے بھیجے گئے۔ قرآن میں آیا ہے کہ—’’اور ہم نے تم پر کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ تم ان کو وہ چیز کھول کر سنا دو جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں‘‘(16:64) ۔
پیغمبر عربیﷺ کے ذریعہ مذہبی اختلافات کو ختم کر کے مذہب کا جو مستند متن عطا کیا گیا وہ کتاب الٰہی کا آخری متن ہے۔ واضح ہو کہ نیا نبی صرف عملی بگاڑ پر نہیں آتا بلکہ وہ اس وقت آتا ہے جب کہ خدا کی کتاب میں بگاڑ آ جائے اور خدا کی رہنمائی اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہے۔
پیغمبر عربی ﷺ کے بعد ایسے حالات پیدا کیے گئے کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) مکمل طور پر محفوظ ہو گئی۔ اس حفاظت کے بعد اب نئے پیغمبر کے آنے کا کوئی سوال نہیں۔
قوموں میں ہمیشہ عملی اور اخلاقی بگاڑ آتا ہے اور پیغمبر آخرالزماں کے بعد بھی ایسا بگاڑ آئے گا۔ مگر عملی بگاڑ کی حالت میں مصلح کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ پیغمبر کی۔ ایک حدیث رسول میں یہی بات اس طرح کہی گئی ہے کہ میرے بعد ہر سو سال پر ایک مجدد آتا رہے گا۔ مجدد دین اور مصلحین کے ظہور کا یہ عمل پچھلے چودہ سو سال سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ مگر اب قیامت تک کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام تمام قوموں کا مذہب ہے۔ وہ دوسرے مذاہب ہی کا صحیح اور مستند ایڈیشن ہے۔ اسلام کو پانا خود اپنے مذہب کو پانا ہے۔ آج جو شخص اسلام کو اختیار کرے اس نے گویا خود اپنے گم شدہ مذہبی سرمایہ کو دوبارہ محفوظ صورت میں حاصل کر لیا۔
